‘گلگت بلتستان عملی طور پر صوبہ ہے قانونی طور پر نہیں’

گلگت بلتستان صوبہ کیوں نہیں بن سکتا؟

پاکستان میں قائم علاقائی اور بین الاقوامی اُمور پر خود مختار تحقیقاتی ادارے سے منسلک تحقیق کار نیلم نگار کے مطابق:

  • گلگت بلتستان کا معاملہ کشمیر کے تنازع کے ساتھ منسلک ہے اور جب تک رائے شماری کے ذریعے اُس معاملے کو حل نہیں کیا جاتا تب تک اِس علاقے کو باقاعدہ صوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔
  • گلگت بلتستان کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ جب تک صوبہ نہیں بنایا جاتا انھیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی طرز کا انتظامی ڈھانچہ فراہم کیا جائے تاکہ وہاں کے عوام کے معاشی اور سماجی مسائل حل ہو سکیں۔

یوم مظلومین جہاں، گلگت بلتستان بھر میں گزشتہ 72سالوں سے جاری مظالم کے خلاف مظاہرے

گلگت بلتستان میں حزبِ مخالف کا موقف

گلگت بلتستان میں حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ سمجھتے ہیں کہ

گلگت بلتستان کو بھی وہی درجہ دیا جانا چاہیے جو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو انڈیا نے دیا ہے۔

  • کشمیر کے تنازع کے حل اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنائے جانے تک یا تو اس شمالی علاقے کو متنازع قرار دے کر آئین میں نمائندگی دی جاسکتی ہے۔
  • دوسری صورت میں گلگت بلتستان کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی طرز پر انتظامی اُمور چلانے کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

موجودہ صورتحال

  • پاکستان میں حقوق، قوانین اور مفادات کا تحفظ آئینِ پاکستان کے ذریعے کیا جاتا ہے اور گلگت بلتستان کی آئینِ پاکستان میں نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے اِس کا استحصال ہو رہا ہے۔
  • زمینیں، پہاڑ، ماحول، سڑکیں، قوانین، پانی، جنگلات اِن سب کا تحفظ آئینِ پاکستان سے باہر رہ کر کیا جانا نہایت مشکل کام ہے۔
  • یہاں کے لوگ اِس مقصد کے لیے اِس علاقے کو اگر صوبہ ممکن نہیں تو ‘متنازع’ علاقے کے طور پر ہی آئین میں شامل کرانا چاہتے ہیں۔
  • پاکستان کی قومی اسمبلی اور گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی کی بنیاد پر سینیٹ میں نمائندگی اب بھی ایک خواب ہے جو اِس علاقے کو پاکستان کا صوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے۔

حکومتِ پاکستان کا موقف

گلگت بلتستان میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے مشیر اطلاعات شمس میر کے مطابق گلگت بلتستان آڈر 2018 میں وفاق کے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا گیا ہے۔

  • یہاں کے لوگوں کو معاشی، انتظامی اور قانونی لحاظ سے طاقتور بنایا گیا ہے اور انھیں اعلی عدالتوں تک رسائی دی گئی ہے۔
  • اِس سب میں اِس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ کشمیر پر پاکستان کے موقف پر کوئی آنچ نہیں آئے۔
  • گلگت بلتستان ‘ڈی فیکٹو’ صوبہ ہے ‘ڈی جیرو’ صوبہ نہیں ہے۔ (عملی طور پر ہے لیکن قانونی یا آئینی طور پر نہیں ہے) لہذا اِس کو اندرونی طور پر اختیارات دینے سے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی یا اثر نہیں پڑے گا۔

پاکستان نےنئی ویزا پالیسی کے تحت 48 ممالک کو ویزے میں نرمی دیتے ہوئے مخصوص وقت کے لیے ویزا فری کردیا گیا ہے۔

تاریخی پسِ منظر

تاریخی لحاظ سے گلگت بلتستان کو ریاستِ کشمیر کی نوابی ریاست کا درجہ حاصل تھا۔

تقسیم ہند کے وقت گلگت بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے مقامی فوج کے خلاف لڑائی کی تھی۔

پاکستان کے قیام کے بعد حکومتِ پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے الحاق سے متعلق رائے شماری کرانی تھی جس کی بنیاد پر اِن علاقوں کے انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا معاملہ طے کیا جانا تھا لیکن سیاسی اور بین الاقوامی مصلحتوں کی بنیاد پر یہ کام تاحال مکمل نہیں ہو پایا ہے۔

 تحریر: عبداللہ فاروقی

About وائس آف مسلم

Avatar
وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔