گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں خطے سے وفاقی اداروں کی واپسی کے قرارداد منظور۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رُکن جاوید حسین نےسپریم کورٹ کا گلگت بلتستان کے حوالے سے فیصلے کے تناظر میں وفاقی اداروں کا گلگت بلتستان میں وجود بلاجواز قرار دیتے ہوئے جمعرات کو اسمبلی میں بل پیش کردیا ۔

اُنکا کہنا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قراردیا ہے اور متنازعہ علاقوں میں وفاقی اداروں کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے جس طرح آزاد کشمیر جو کہ ایک متنازعہ علاقہ ہے میں کوئی وفاقی ادارہ موجود نہیں ہے اس طرح گلگت بلتستان سے بھی وفاقی ادارے واپس بجھوائے جائیں۔ قراداد کی اپوزیشن لیڈر محمدشفیع ، سینئر وزیر حاجی اکبر تابان، نسرین بانو اور حیدر خان نے کھل کر حمایت کی جبکہ وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ نے بھی قرارداد کی مخالفت نہیں کرتے ہوئے قرارداد میں اضافے کا تجویز پیش کیا۔ اس حوالے سے متحدہ اپوزیش تقسیم ہوگئے مجلس وحدت المسلمین کے رکن اسمبلی حاجی رضوان علی نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ ہمارے آباو اجداد نے ان علاقوں کو آزاد کرانے کے بعد پاکستان سے الحاق کیا ہے اور اصل پاکستانی ہم ہیں اور گلگت بلتستان میں وفاقی اداروں کی موجودگی ضروری ہے۔اسی طرح کعلدم اسلامی تحریک کے کیپٹن(ر) سکندر علی نے یہ کہتے ہوئے قرارداد مخالفت کی کہ میں وفاق پرست ہوں اور اس قرارداد کی حمایت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ خان نے بھی قراداد کی مخالفت کردی۔

About وائس آف مسلم

Avatar
وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.