گلگت بلتستان میں انتظامی اصلاحات کا ڈرافٹ 3 مئی کو وفاقی کابینہ میں پیش ہوگا

رپورٹ آصف حسین
گلگت بلتستان میں سیاسی و انتظامی اصلاحات کے ڈرافٹ کو وفاقی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دیدی گئی، جمعرات کے روز
وزیراعظم کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلٰی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے قائم مقام وزیراعظم شریک ہوئے۔ وزیراعظم نے دونوں خطوں کے سربراہان کو حتمی مشاورت کیلئے طلب کیا تھا۔ جمعرات کے روز ہونے والے مشاورتی اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے وزیراعلٰی گلگت بلتستان کو اعتماد میں لیا، وفاقی کابینہ کا اجلاس 3 مئی کو ہوگا، جس میں انتظامی اصلاحات کے ڈرافٹ کی منظوری دی جائے گی۔ مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو انتظامی طور پر مزید بااختیار بنانے کیلئے ”گلگت بلتستان آرڈر 2018ء“ کے نام سے مرتب شدہ ڈرافٹ کو منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، تاہم آزاد کشمیر کیلئے مرتب شدہ اصلاحاتی مسودہ کو کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ وزیراعظم آزاد کشمیر کی وطن واپسی تک موخر کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کی وطن واپسی کے بعد ان سے حتمی مشاورت اور انہیں اعتماد میں لیکر مسودہ کو کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری دی جائے گی۔

واضح رہے کہ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے رواں ماہ 13 اپریل کو وزیراعظم کو باضابطہ سمری ارسال کی تھی، جس میں وزیراعظم سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ ”گلگت بلتستان آرڈر 2018ء“ کے نام سے مرتب شدہ ڈرافٹ کو منظور کرکے حتمی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ وزارت امور کشمیر کی جانب سے ارسال کردہ 4 صفحات پر مشتمل سمری میں وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے موقف اپنایا ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرتے ہوئے دیگر صوبوں کے برابر صوبہ بنانے اور قومی اسمبلی و سینٹ میں نمائندگی دینے سے متعلق اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کو عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ذمہ داریوں اور ملک کی قومی مفاد کے پیش نظر ڈرافٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا، تاہم یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر آگے چل کر غور کیا جائے گا۔ سمری کے تحت گلگت بلتستان حکومت کو انتظامی طور پر مزید بااختیار بنانے کیلئے گلگت بلتستان کونسل کو ختم کیا جائے گا، گلگت بلتستان کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)، مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) سمیت دیگر آئینی اداروں میں بطور مبصرو نان ووٹنگ ممبر نمائندگی دی جائے گی، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن(ایف پی ایس سی) میں بھی گلگت بلتستان کے ایک رکن کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، تاہم اس کو ڈرافٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے، اس کیلئے الگ سے قانون سازی کی جائے گی۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.