گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کالا قانون ہے، ڈوگروں کا نظام نہیں مانتے، مولانا سلطان رئیس

مولانا سلطان رئیس عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین ہیں، عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ سابقہ دور حکومت میں گندم سبسڈی بحالی کی تحریک کے دوران تمام مسالک کے نمائندوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کو تشکیل دیا، جس کے بعد گلگت بلتستان میں مذہبی ہم آہنگی کی مثالی فضا قائم ہوئی۔ مولانا سلطان رئیس گندم سبسڈی تحریک کے دوران پیش پیش رہے، بعد میں موجودہ مسلم لیگ نون کی حکومت نے گلگت بلتستان میں ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت کئی ٹیکس نافذ کئے تو عوامی ایکشن کمیٹی نے بھرپور تحریک چلائی، جس کے نتیجے میں حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اس وقت خالصہ سرکار قانون کے حوالے سے تحریک چل رہی ہے، اس میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان ریئس کی قیادت میں بھرپور سرگرم ہیں۔ اسلام ٹائمز نے گلگت بلتستان کی مجموعی صورتحال، خصوصاً خالصہ سرکار، ٹیکس اور مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

 عوامی ایکشن کمیٹی کی تشکیل کے بعد فرقہ واریت کے بھنور میں گھرے گلگت بلتستان میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کی مثالی فضا قائم ہوئی ہے، یہ ممکن کیسے ہوا۔؟
مولانا سلطان رئیس: بنیادی طور پر عوامی ایکشن کمیٹی خطے میں امن اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے بنی تھی، اس میں تمام مسالک اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی نمائندگی ہے، ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ کسی بھی خطے میں تعمیر و ترقی کی بنیادی وجہ اور ضرورت امن ہے۔ ہم نے محسوس کیا کہ گلگت بلتستان ماضی میں بدامنی کی وجہ سے دنیا کے نقشے پر ہی نہیں آیا، اس چیز کو محسوس کرتے ہوئے ہم نے فرقہ واریت کے حوالے سے کام کیا، گذشتہ دور حکومت میں گندم کی سبسڈی کی بحالی کی تحریک کے دوران اس اتحاد کا قیام عمل میں آیا تھا، لیکن بعد میں اس کو استعمال کرتے ہوئے ہم نے اتحاد بین المسالک اور مذہبی ہم آہنگی کیلئے کوششیں کیں۔ مساجد کے ہم نے دورے کئے اور مختلف پروگرامز منعقد کروائے، پھر ہم نے وفود تشکیل دیئے، دیامر کے علماء کے وفد کا سکردو کا دورہ کروایا گیا اور پھر نگر سے اہل تشیع کے علماء کے وفد نے دیامر کا دورہ کیا، اس کی وجہ سے الحمداللہ آج چھ سات سالوں سے گلگت بلتستان میں امن کی فضا قائم ہے اور روزگار و تجارت کا پہیہ بھی چل رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بنیادی طور پر گلگت بلتستان میں ترقی کے حوالے سے جو بھی معاملات ہوں، چاہے وہ سی پی ہو یا کوئی اور امن ہی اس کیلئے کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہماری آج بھی کوشش ہے کہ ایشوز، مسائل بنتے بکھرتے رہتے ہیں، مشکلات آتی رہتی ہیں، لیکن امن عوامی ایکشن کمیٹی کا بنیادی سبجیکٹ ہے، کیونکہ ماضی میں گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کے حوالے سے انوکھی بدامنی تھی، فرقہ واریت پورے خطے کیلئے ایک مثال بن گئی تھی، آج الحمداللہ گلگت بلتستان کا امن پورے پاکستان میں مثال بنتا جا رہا ہے، پوری قوم کی ضرورت ہے کہ اس امن کو برقرار رکھیں۔
: حکومت کا دعویٰ ہے کہ لینڈ ریفارمز کمیشن خالصہ سرکار کے معاملے کا مستقل حل نکالے گا، کیا کمیشن نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مشاورت کی ہے۔؟
مولانا سلطان رئیس:
ابھی تک حکومت نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، لیکن ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ لینڈ ریفارمز کے حوالے سے ایک ڈرافٹ بناکر دینگے، جس کے بعد ہمارا مطالبہ یہی ہوگا کہ اس ڈرافٹ پر عمل کریں۔ ڈرافٹ میں بنیادی مطالبہ یہی ہوگا کہ لینڈ رفارم کے ذریعے مالکانہ حقوق کے نام پر ٹرخایا نہ جائے بلکہ ملکیتی حقوق دیئے جائیں، کیونکہ عوام شروع سے یہی تقاضہ کر رہے ہیں کہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کے خاتمے کے بعد جو حقوق سلب کئے جا چکے ہیں، وہ دیئے جائیں، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ریاست یا ریاستی اداروں اور صوبائی حکومت کو زمین چاہیئے تو وہ بے شک حاصل کریں، لیکن پہلے عوام کو معاوضہ دیا جائے۔

اسلام ٹائمز: خالصہ سرکار قانون کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا سلطان رئیس:
سرکار چلی گئی لیکن خالصہ سرکار ابھی باقی ہے، چاہے وہ زمینوں کی شکل میں ہو یا حکومتوں کی شکل میں۔ ابھی تک وہی خالصہ موجود ہے، وہی ڈوگرہ نظام ہے، سیاست بھی وہی ہے، یہ ایک کالا قانون ہے، یہ گلگت بلتستان کے عوام کے حق میں بالکل بھی نہیں ہے، یہ ریاست کے اوپر ایک دھبہ ہے، خالصہ سرکار کی اگر آپ تعریف اٹھا کر دیکھیں تو اسی سرکار کو یہاں کے لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے مار بھگایا، لیکن آج وہی خالصہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ ہم اس کالے قانون کو نہیں مانتے۔

اسلام ٹائمز: عوام کا مطالبہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا بھی ہے، کیا ایسا ممکن ہے۔؟
مولانا سلطان رئیس:
سٹیٹ سبجیکٹ رول کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا تقاضا کرتا ہے، ہمارے بعض سیاستدانوں پر رشک آتا ہے کہ وہ تقاضا کرتے ہیں صوبے کا، پھر مانگتے ہیں انتظامات کے حوالے سے سٹیٹ سبجیکٹ رول، پھر ہمارے بعض دوست ایسے ہوتے ہیں، جو ریاست مانگتے ہیں، لیکن اندرونی معاملات میں صوبے کا تقاضا کرتے ہیں۔ بنیادی چیزیں یہ ہیں کہ اگر ہم سٹیٹ سبجیکٹ رول کا تقاضا کرتے ہیں تو اس سے پہلے کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا تقاضا کریں، تاکہ جو ہمارا ریاستی تشخص ہے، وہ قائم رہے، پھر اس کا لازمی جزو ہوگا سٹیٹ سبجیکٹ رول۔ اگر ہم اوپر سر کو نہ پکڑیں، ایک جزو کو پکڑیں اور کہہ دیں کہ نہیں جی سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کرو اور سٹیٹس صوبے کا دیدو، یہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا معاملہ ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بنیادی اور مستقل طور پر اس معاملے کا حل نکالا جائے، خالصہ سرکار کا جو ایشو ہے، یہ گذشتہ تمام تحریکوں سے زیادہ ردعمل کا باعث بن سکتا ہے، چاہے وہ ٹیکس کے معاملے کا ہو یا سبسڈی کا، لیکن ان سب میں سب سے زیادہ ردعمل کا سبب خالصہ سرکار کا معاملہ بن سکتا ہے اور یہ بنتا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: ایف بی آر کے ذریعے لینڈ ریونیو کی شکل میں دوبارہ ٹیکس نافذ کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے، کیا حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو اعتماد میں لیا ہے۔؟
مولانا سلطان رئیس:
ایف بی آر کے ذریعے کوئی ٹیکس لاگو نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہمارے ساتھ باقاعدہ تحریری معاہدہ ہوچکا ہے۔ بدقسمتی سے نئے ڈرافٹ کے حوالے سے جو باتیں چل رہی ہیں، اس کے حوالے سے بھی ہمیں کوئی اعتماد میں نہیں لیا گیا، نہ ہی مشاورت کی گئی ہے۔ ٹیکس نافذ کرنے کی صورت میں حکومت اپنے پاوں پر آپ کلہاڑی دے مارے گی، کیونکہ اللہ اللہ کرکے ان کے اوپر سے جو تلوار لٹکی ہوئی تھی، وہ ہٹ گئی ہے، اب غلظی سے بھی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے۔ ہم نے وزیراعلٰی سے کہا ہے کہ جو چار بڑے انکم کے ذرائع وفاق کے پاس ہیں، وہ آپ اپنے کنٹرول میں لیں، جو ٹیکس چاہے وہ جی ایس ٹی کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں، ہم وفاق کو ادا کر رہے ہیں، ان کے ریٹرن کے حوالے سے کوئی فارمولا بنایا جائے۔ اس کے باوجود بھی ہمارے یہاں کے حکمرانوں کی عیاشی پوری نہیں ہوتی تو پھر اسمبلی میں بحث کرائی جائے اور منتخب ممبران کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کیا جائے۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful