گلگت بلتستان میں سکولوں کا ڈھانچہ بہت خراب، دو ارب روپے درکارہیں، قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان میں انکشاف ہوا ہے کہ 1980سے اب تک بھاشا ڈیم منصوبے پر تعینات کیئے گئے آفیسرز اور آفیشلز پر 2ارب37کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات آچکے ہیں،کمیٹی نے کوئٹہ میں کشمیریوں کے لئے بنائی گئی ہائوسنگ سکیم میں کشمیریوں کا نظر انداز کرنے کے معاملے پر وزارت سے رپورٹ طلب کر لی ،گلگت بلتستان حکومت کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں شرح خواندگی 53فیصد ہے ،گلگت بلتستان میں ٹوٹل 14انٹر میڈیٹ کالج جبکہ 7ڈگری کالج ہیں ، 1284گورنمنٹ سکولوں میں ایک لاکھ 51ہزار756 طلباء تعلیم حاصل کر ہے ہیں ، جبکہ 682پرائیویٹ سکولوں میں ایک لاکھ25ہزار381طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کا اجلاس رکن اسمبلی خلیل جارج کی صدارت میں شروع ہوا جس میںواپڈا حکام کی طرف سے کمیٹی کا آگاہ کیا گیا کہ1980سے اب تک بھاشا ڈیم منصوبے پر تعینات کیئے گئے آفیسرز اور آفیشلز پر 2ہزار 377ملین کے اخراجات آچکے ہیں ، سیکرٹری جنگلات گلگت بلتستان نے کمیٹی کا آگاہ کیا کہ گلگت بلتستان کی 80فیصد زمین پر پودے نہیں لگائے جا سکتے گلگت بلتستان میں1 4.9فیصد جنگلات ہیں پرائیویٹ اور پبلک دو قسم کے جنگلات ہوتے ہیں جبکہ گلگت میں ا س وقت70فی صد پرائیویٹ جنگلات ہیں ، جبکہ 9لاکھ سی ایف ٹی لیگل کٹ ٹمبر اس وقت موجود ہے ، بابو سر بھی کبھی جنگل ہوا کرتا تھا اس سال بابوسر میں 600کینال پر شجر کاری کریں گے ، سیکر ٹری تعلیم گلگت بلتستان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں شرح خواندگی 53فیصد ہے ، سکولوں کا ڈھانچہ بہت خراب ہے ، ہمارے پاس ایسے سکول ہیں جن میں صرف دو کمرے ہیں ، سکولوں میں صرف بینادی سہولیات پورا کرنے کے لئے دو بلین روپے درکار ہیں ، گلگت بلتستان میں ٹوٹل 14انٹر میڈیٹ کالج جبکہ 7ڈگری کالج ہیں ، 1284گورنمنٹ سکولوں میں ایک لاکھ 51ہزار756 طلباء تعلیم حاصل کر ہے ہیں ، جبکہ 682پرائیویٹ سکولوں میں ایک لاکھ25ہزار381طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں ،خلیل جارج نے کہا کہ اتنی محبت سے درخت لگاتے ہیں اور مافیا آتا ہے اور درخت کاٹ کر لے جاتا ہے اور پتہ ہی نہیں چلتا ، ان چیزوں کو روکنا ہم سب کا فرض ہے ، اس سلسلے میں سخت قانون سازی کر نی چاہیئے ، تعلیم ملک کا سب سے اہم ستون ہے لیکن اسے ترجیح نہیں دی جارہی ، اس موقع پر چیئرمین کمیٹی ملک ابرار نے کہا کہ تعلیم سب سے اہم شعبہ ہے ، تعلیم کے شعبے میں جتنی سہولتیں عوام کو مل سکتیں ہیں ، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے ، کمیٹی حکومت سے گزارش کرے گی کہ تعلیم اور صحت کو ترجیح دی جائے ، جس علاقے میں سکول کھولے جا رہے ہیں وہیں کے لوگ ادھر بھرتی کئے جائیں ، رکن کمیٹی خلیل جارج نے کہا کہ کوئٹہ میں کشمیریوں کے لئے ایک ہائوسنگ سکیم ہے لیکن اس ہائوسنگ سکیم میں کشمیریوں کا نظر انداز کیا جارہا ہے ، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ، اس کی تحقیقات کرائی جائیں ، کمیٹی نے وزارت کو معاملے کی تحقیقات کر کے یکم اپریل تک رپورٹ جمع کر انے کی ہدایات کر دیں۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful