گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں لیکن دیوسائی آخری پناہ گاہ ایوارڈ پاکستان کے نام

فرانس میں منعقد ہونے والے 31 ویں ڈی مینیجو فلمی میلے میں دیوسائی نیشنل پارک میں ہمالیہ کے بھورے ریچھ کی ختم ہوتی ہوئی نسل پر بنائےجانے والی فلم ’دیوسائی: آخری پناہ گاہ‘کو ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

فرانس میں ہونے والے فلمی میلے میں ’دیوسائی: آخری پناہ گاہ‘ کو پری دے پروتیکسیاں دے الا نیتور دے لا ایوارڈ یعنی فطرت کے تحفظ کا ایوارڈ ملا ہے۔

یہ دستاویزی فلم اسلام آباد کے پروڈکشن ہاؤس واک اباؤٹ فلمز نے بنائی ہے، جو متعدد بار پی ٹی وی اور ڈان نیوز پر چلائی جا چکی ہے۔

یہ فلم یو ایس ایڈ کے تعاون سے بنائی گئی ہے۔

یہ دستاویزی پاکستان کے نیشنل پارکوں پر بنائے جانے والی سیریز کی دوسری فلم ہے۔ پہلی فلم ایوبیہ پارک میں’تیندوے ہمارے درمیان‘ کے نام سے بنائی گئی تھی۔

یہ دونوں فلمیں 2013 میں ریلیز کی گئی تھیں جو جنگلی حیات کے تحفظ پر کام کرنے والی تنظیم ’دی گیو بیک پروجیکٹ‘ کا حصہ ہیں۔

یہ تنظیم امدادی عطیات کی مدد سے چلائی جاتی ہے جس کامقصد پاکستان کے قومی ورثے کا آگہی اور تعلیم کے ذریعے تحفظ کرنا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے قراداد کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازع خطہ ہے

حال ہے میں سیکریٹری خارجہ پاکستان اور وفاقی وزیر اطلاعات پاکستان نے بھی یہ واضع دیا تھا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں

اسکے باوجود بھی فرانس کے فلمی میلے میں دیوسائی جو کہ گلگت بلتستان کا حصہ ہے ایوارڈ پاکستان کو دینا بہت ہی حیران کن بات ہے

یاد رہے کہ جب گلگت بلتستان کے عوام جو 67 سالوں سے بنیادی حقوق سے محروم ہے جب حقوق کی بات کرتے ہیں تو پاکستان اس خطے کو اپنانے سے انکار کررہا ہے

جب کہ وسائل کی بات یہ کوئی عالمی شہرت یہ گلگت بلتستان کی بیٹی ثمینہ بیگ کو کارنامہ انجام دے تو پاکستان اپنے سر لیتاہے۔

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful