گلگت بلتستان کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟

تحریر: لیاقت تمنائی

آج کل ایک بار پھر گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ گردش میں ہے، اس بات سے قطع نظر کہ گلگت بلتستان کی شناخت اور حقوق کا معاملہ ستر سال سے حل طلب ہے، باوجود اس کے کہ یہاں کے عوام پاکستان سے زیادہ پاکستانی ہیں، اس بات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی حالات اور روز تبدیل ہوتے منظرنامے اور چیلنجز کے پیش نظر گلگت بلتستان کے بہتر اور محفوظ مستقبل کا فیصلہ کیا ہوسکتا ہے۔؟ کیونکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کے مین سٹریم حکومتی حلقوں میں گلگت بلتستان کے مستقبل کے فیصلے پر غور ہو رہا ہے، غالب امکان یہی ہے کہ وفاق میں عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام کے فوری بعد ہی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بارے میں باقاعدہ فیصلے کا اعلان کیا جائیگا، اس سے پہلے دو سے تین ہفتوں میں نئی اصلاحات کے ترمیم شدہ ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جاسکتی ہے اور ممکن ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد ہو۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں گلگت بلتستان کے عوام کے دکھوں کا مداوا کس حد تک ہوگا۔؟ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مکمل آئینی صوبہ ممکن نہیں تو تو پھر عبوری آئینی صوبہ بنانے کے کیا فوائد ہونگے، گراس روٹ لیول پر اس کے کیا ثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ آئینی صوبہ اور آزاد یا مقبوضہ کشمیر طرز کے سیٹ اپ میں کیا فرق ہے اور عوام کیلئے موزوں کونسا سیٹ اپ ہوگا اور پھر اس سیٹ سے عوام کس حد تک بہرہ مند ہونگے۔؟

ان سوالوں کے جوابات آج تک کسی سیاسی و مذہبی لیڈر نے نہیں دیئے، محض الفاظ کی جادوگری کے ذریعے جذباتی خطابات سننے کو ملتے آرہے ہیں۔ آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کشمیر طرز کے سیٹ اپ یا عبوری آئینی صوبے میں فرق کیا ہے اور کن وجوہات کی بنیاد پر کونساسیٹ اپ موزوں ہے۔؟ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے معاملے کو سب سے زیادہ مقامی سیاستدانوں نے نقصان پہنچایا، چونکہ مقامی لوگ سیاسی مدوجزر کے ارتعاش سے ابھی ابھی آشنا ہونے کے مراحل میں ہیں تو ایسے میں ان کی بہتر رہنمائی کی ضرورت تھی اور ان کو ایک مکمل ویژن دے کر آگے لے جانے کی ضرورت تھی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست مفادات کا کھیل ہے اپوزیشن میں لوگ افلاطون اور حکومت میں خوشامدی بن جاتے ہیں، یہی صورتحال گلگت بلتستان میں بھی ہے، یہ تفریق گلگت بلتستان کے حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جو لوگ اپوزیشن میں آسمان سے تارے توڑ کر لانے، وفاق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر حقوق چھننے کی باتیں کرتے ہیں، لیکن وہی لوگ حکومت میں آنے کے بعد کسی بھی نام نہاد سیٹ اپ پر نہ صرف سمجھوتہ کرتے ہیں بلکہ وفاق کے ہر برے اور اچھے اعمال کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کرتے ہیں، اخلاقی جرات سے عاری، ذہنی پسماندگی کی سیاست قوم کی تباہی کیلئے کافی ہوتی ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کی اکثریت کا مطالبہ آئینی صوبہ ہے، کچھ لوگ آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ جس کی طرف کسی نے آج تک توجہ نہیں دی، سٹیٹ سبجیکٹ رول یعنی قانون باشندگان ریاست کی بحالی۔۔۔۔ بھٹو نے ایس ایس آر (سٹیٹ سبجیکٹ رول) کو 1972ء میں ایک زبانی حکم نامے کے تحت معطل کر دیا تھا، اس کے بعد سے گلگت بلتستان کی شناخت اور ہیت تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ بھٹو نے گو کہ گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں لانے کی ابتدائی کوشش ضرور کی تھی، جس کیلئے یہ ایس ایس آر ختم کیا گیا تھا، لیکن باشندگان ریاست کا قانون تو آج تک معطل ہے اور ساتھ ہی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا معاملہ بھی ہنوز حل طلب ہے، سٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کرنے کے خلاف اس وقت کوئی آواز بلند نہیں ہوئی، گلگت بلتستان سے نہ ہی آزاد کشمیر سے، گلگت بلتستان کے لوگ اس وقت ملکی حالات و واقعات اور سیاست کے الجبرے سے باالکل ناآشنا تھے، اب جبکہ لوگوں میں شعور بیدار ہو رہا ہے، سیاست میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے، ایسے میں ضرورت یہ ہے کہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والے نظام کے تحت بسنے والی اس قوم کو صحیح راستہ دکھایا جائے اور ایک جامع نظریئے کے تحت اس خطے کی اصل شناخت کی بحالی اور مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے قدم اٹھایا جائے۔

متوقع اصلاحات کا ایک ڈرافٹ تو آپ کے سامنے ہے، جس میں اختیارات کی منتقلی کی بجائے گلگت بلتستان کو بے اختیار بنا کر وزیراعظم کو شہنشاہ بنا دیا گیا ہے۔ مجوزہ ڈرافٹ میں وزیراعظم کو اتنے اختیارات اپنے گھر میں بھی حاصل نہیں ہیں، جتنے ڈرافٹ کے مطابق انہیں حاصل ہونگے۔ مجوزہ ڈرافٹ کے چند ہی آرٹیکلز عوام کے سامنے آئے ہیں، پوری تفصیلات عوام تک پہنچ جائیں تو لوگ دنگ رہ جائیں گے۔ مثال کے طور پر نئے آرڈر کی ایک شق کے مطابق صوبے کے وزیراعلٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں صدر کی منظوری ضروری قرار دی گئی ہے۔ ڈرافٹ کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عجلت میں کسی مخصوص ڈائریکشن کے تحت مرتب کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی میں عسکری قیادت نے بھی اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کر دیا اور مزید نظرثانی کی ہدایت کی گئی، جس کے بعد یہ ڈرافٹ پس پردہ چلا گیا ہے اور اس پر دوبارہ غور ہو رہا ہے۔

مجوزہ ڈرافٹ مسترد ہونے کے بعد دوسرا راستہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد رہ جاتا ہے، جس کے تحت گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے تصفیہ تک عبوری آئینی صوبہ بنانے کے ساتھ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تین تین نشستیں دی جائیں گی، جبکہ تمام آئینی اداروں میں بھی مستقل نمائندگی ملے گی۔ دوسرا راستہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں آئینی صوبے پر اعتراض ہونے کی صورت میں آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کے تحت نیم خود مختار ریاست، صدر، وزیراعظم کا عہدہ اور ساتھ ہی سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی جیسے اقدامات کرنے ہونگے۔ گلگت بلتستان کی قوم پرست جماعتوں کا دیرینہ مطالبہ بھی یہی رہا ہے کہ چونکہ گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازعہ علاقہ ہے تو اس کی متنازعہ حیثیت کے مطابق ہی نظام دیا جائے۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر غالب امکان یہی ہے کہ مجوزہ ڈرافٹ مسترد ہونے کے بعد سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے مطابق گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جاسکتی ہے، جس کے تحت ایک عبوری صوبے کا قیام عمل میں آئیگا اور وفاقی آئینی اداروں میں نمائندگی ملے گی۔ عوام کا ایک اہم مطالبہ پورا ہوگا، لوگ چین کی بانسری بجائیں گے، کریڈٹ لینے کی میراتھن شروع ہوگی اور پھر لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ چند روز پہلے میری گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سے ملاقات ہوئی، گلگت بلتستان کے مستقبل کے بارے میں بہت ہی فکر مند نظر آرہے تھے۔ ایک صحافی ہونے کے ناتے میری صحافت کی ساتویں حس نے کریدنا شرو ع کر دیا اور گفتگو کا دائرہ ملکی اور بین الاقوامی سیاست تک پھیل گیا، میں نے مجوزہ ڈرافٹ اور اس کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے عوام کی جانب سے شدید ردعمل کے بارے میں میڈیائی تمہید باندھنا شروع کر دی تو درمیان میں پروفیسر صاحب میری باتوں کو بریک لگاتے ہوئے بولے، دیکھو بیٹا سب کچھ ملے گا، لیکن اس کے بعد بہت کچھ ہم کھو دیں گے، میں چونک گیا اور استفسار کیا کہ آخر کیوں۔؟

پروفیسر بولے، عوام کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ میں نے کہا آئینی حیثیت؟ پروفیسر قہقہہ لگا کر بولے، یہی تو ہمارے اجتماعی شعور کی پستی ہے۔ میں نے سوال کیا کیسے؟ بولے، یہ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا معاملہ فیصلہ کن مرحلے میں ہے، قوی امکان یہی ہے کہ وفاق گلگت بلتستان کے عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی اور خصوصاً نوجوان نسل میں پائی جانی والی بے چینی اور اس کے نتیجے میں ایک اور پی ٹی ایم کے وجود کے ڈر سے ہی سہی عبوری آئینی صوبہ بنا دیگا، پارلیمنٹ میں نمائندگی بھی ملے گی، این ایف سی ایوارڈ میں حصہ بھی پورا پورا ملے گا، حساس معاملات کے علاوہ فیصلہ سازی کے اختیارات کسی حد تک منتقل ہونگے، لوگوں کا دیرینہ مطالبہ کسی حد تک حل ہوگا، لیکن کیا یہی ہمارے اصل مسئلے کا حل ہے۔؟ نہیں ہے، ہمارا اصل مسئلہ ہماری زمین ہے، ہماری ثقافت ہے، ہماری پہچان ہے۔۔ میں درمیان میں سوال کرنے والا ہی تھا، اس سے پہلے پروفیسر نے ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے اپنی بات کو جاری رکھا اور اور کہا، افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ماضی میں کوئی لیڈر نہیں تھے، آج لیڈروں کی بہتات ہے، ہر ایک کا الگ نظریہ ہے، الگ موقف ہے، لیکن کسی کے پاس ویژن نہیں۔ آپ ایک صحافی ہیں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کے پاس کتنی زمینیں بچی ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم کیونکہ آپ کی صحافت کا محور عوام کے بنیادی مسئلے سے زیادہ سیاسی مافیاﺅں کے خوشامدیوں کی پوائنٹ سکورنگ اور اخبارات کیلئے چیختی چنگاڑتی سرخیاں ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ گلگت میں کتنے افغانی شناختی کارڈ بنوا کر گلگتی بن چکے ہیں؟ سکردو میں باہر سے کتنے لوگ زمینیں خرید کر آباد ہوچکے ہیں۔؟ آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ کتنے سینیٹرز، وفاقی وزراء، اراکین اسمبلی، اسلام آباد، سندھ پنجاب کے وڈیروں، سرمایہ داروں نے کتنی زمینیں اپنے نام کر لی ہیں۔ اب آپ بتاﺅ آپ کو زمین چاہیے یا آئین؟ پہلے زمین کو تو بچاﺅ ،آئین تو آپ کے ہاتھ میں ہی ہے۔ پروفیسر نے اپنی بات کو جاری رکھا ”آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول نافذ ہے، وہاں کی زمینیں محفوظ ہیں، کوئی وہاں زمین نہیں خرید سکتا اور نہ ہی شہریت لے سکتا ہے، لیکن یہاں جو پانچ مرلے کی زمین لے گا، اس کو ڈومسائل سے نوازا جاتا ہے۔ اب اس کا نقصان کیا ہوگا، مقامی آبادی کا تناسب تبدیل ہونا شروع ہوگا بلکہ ہوچکا ہے، گلگت بلتستان کے مخصوص جغرافیہ اور موسم کی وجہ سے بڑے بڑے سرمایہ داروں کی نظریں اس خطے پر مرکوز ہیں، ملک ریاض کے نزدیک چار پانچ ارب روپے کی کوئی حیثیت نہیں، وہ چار پانچ ارب روپے یہاں خرچ کرے تو پورا شہر خرید سکتا ہے۔ ہم چونکہ وقتی مفاد دیکھتے ہیں، لیکن مستقبل کی سنگینی کے احساس سے عاری قوم ہیں، اس لئے زمینیں دھڑا دھڑ پیسوں کیلئے فروخت کرنا شروع کر دی ہیں۔

سرمایہ داروں کے آنے کے بعد یہاں کی زمینیوں کے ساتھ ساتھ تجارت پر بھی ان کا مکمل کنٹرول ہوگا۔۔ پروفیسر کی باتوں سے میری تمام حس جواب دے چکی تھی اور میں حیرانی کے عالم میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنتا رہا، پھر وہ بولے، جب سے سٹیٹ سبجیکٹ رول کو معطل کر دیا گیا تھا، تب سے گلگت بلتستان کی تباہی شروع ہوچکی تھی، لیکن ہم اجتماعی طور پر بے شعور قوم ہیں، ہمیں حالات کی سنگینی اور مستقبل کے چیلنجز کا ادراک سرے سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ دیکھو بیٹا، گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے اور یہ پاکستان کی تاریخی غلطی تھی، لیکن اب کیا ہوگا، ہمیں حالات کے مطابق فیصلے کرنے ہونگے، دیکھو ہماری پہلی اور آخری منزل پاکستان ہے، اسی میں ہی ہمارا مفاد ہے، جو لوگ الگ ریاست کی تاویلیں گھڑتے ہیں، میرا ان سے سوال ہے کہ پہلے اپنے گھر کے سامنے والے پرائمری سکول میں میٹرک فیل اساتذہ کو تبدیل کرکے تو دکھاﺅ، جو قوم ساڑھے چار سو جعلی ڈگری اور میٹرک فیل اساتذہ پر سمجھوتہ کرنے والی ہو، وہ الگ ملک کیسے چلا سکتی ہے؟ جو لوگ ایک کلرک کے سامنے بے بس ہوں اور وہ کلرک آپ کی آنکھوں کے سامنے سینکڑوں ان پڑھ لوگوں کو ٹیچر بنا کر آپ پر مسلط کرے اور آپ ان کے سامنے بے بس ہوں تو یہی آپ کی اوقات ہے۔ قوم کا فائدہ پاکستان کے ساتھ رہنے میں ہے۔

لیکن افسوس ہوتا ہے کہ لوگ صوبے صوبے کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک نامعلوم منزل کی جانب رواں دواں ہے، اصل مسئلے کی طرف کسی کی بھی توجہ نہیں، مجھے خدشہ ہے کہ آئینی صوبہ بنتے بنتے گلگت بلتستان کی مقامی آبادی اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی، اس کے بعد آزاد ریاست بننے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تو پھر ہماری قوم کو کیا کرنا ہوگا؟ میں نے جرات کرتے ہوئے ایک اور سوال داغ دیا۔ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا مطالبہ، پروفیسر بولے۔ یہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہونا چاہیے، اس رول کی بحالی کیلئے کسی بھی سیٹ اپ کی ضرورت پڑے کیونکہ وفاق زیادہ سے زیادہ عبوری صوبہ بنائے گا، لیکن متنازعہ علاقے کی تلوار پھر بھی ہمارے سروں پر لٹکتی رہے گی، تو ایسے میں ہمیں متنازعہ علاقہ ہونے کی حیثیت سے سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا مطالبہ کرنا چاہیے، آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کے دو فائدے ہونگے، ایک تو سٹیٹ سبجیکٹ رول نافذ ہو جائے گا، اس کے نتیجے میں ہماری آباو اجداء کی زمینیں بچ جائیں گیں، دوسرا آپ کو پہلے کی نسبت ایک بااختیار سیٹ اپ ملے گا، اس کی بجائے اگر وفاق متنازعہ حیثیت کے ساتھ عبوری آئینی صوبہ بناتا ہے، تب بھی سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا مطالبہ ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ دیکھو، آئینی صوبہ اور آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ میں کیا فرق ہے؟ صرف نام کا، وزیراعلٰی کی جگہ وزیراعظم، گورنر کی جگہ صدر بس یہی ہے، باقی حکومتی اسٹرکچر ایک جیسا ہے۔ گفتگو کے دوران پروفیسر صاحب کے فون پر گھنٹی بجنے لگی، کال اٹینڈ کرنے سے پہلے میری طرف متوجہ ہوکر بولے، ”آپ ایک صحافی ہو، لکھو اپنے اخبار میں، لوگوں کو آئین سے پہلے زمین چاہیے۔ ورنہ آئینی صوبہ بنتے بنتے مقامی لوگ بے گھر ہوکر فٹ پاتھ پر آجائیں گے۔”

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful