گلگت بلتستان کا سب سے طویل سزا کاٹنے والا سیاسی قیدی

بابا جان ستمبر 2014ء میں گلگت سے عوامی ورکرز پارٹی کی پہلی کانگریس میں شرکت کرنے اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ وہ اس وقت ضمانت پر رہا تھے۔ 2012ء کی ابتدا میں انہوں نے انسداد دہشت گردی عدالت میں کچھ ہفتے زیر زمین رہنے کے بعد گرفتاری پیش کر دی تھی۔ ڈیڑھ سال کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

انہیں اسلام آباد میں ہی خبر ملی کہ ان کی عدم موجودگی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ بابا جان نے مجھے یہ بری خبر دی تو میں نے کہا کہ آپ کے پاس آپشن ہیں۔ اگر آپ جلاوطنی میں جانا چاہیں تو آپ کی مدد کی جا سکتی ہے۔ لیکن بابا جان نے کہا کہ کوئی آپشن نہیں سوائے جیل جانے اور اس جھوٹے مقدمے کو بے نقاب کرنے کے۔ بابا جان دوبارہ گلگت گئے اور گرفتاری دے دی۔

آج 22 مئی 2019ء کو جیل گئے بابا جان کو چار سال اور آٹھ ماہ ہو گئے ہیں۔ اگر ان کی ضمانت سے قبل کے ڈیڑھ سال کو بھی شامل کر لیں تو وہ اب تک تقریباً چھ سال جیل کاٹ چکے ہیں۔

وہ آج گلگت بلتستان میں سب سے طویل جیل کاٹنے والے سیاسی قیدی بن چکے ہیں۔ آج دنیا کے کئی درجن ممالک میں گلگت بلتستان کو بابا جان کی جیل یاترا کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ان کی رہائی کا مطالبہ اقوام متحدہ سے لے کے یورپی یونین تک نے کیا ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں جب علی وزیر، محسن داوڑ اور ریاض فتیانہ نے ان کی رہائی بارے ایک قرارداد 23 نومبر 2018ء کو پیش کی تو 24 دسمبر 2018ء کو سپیکر نے اسے پیش کرنے سے منع کر دیا۔

جس بے لوث انقلابی اور سیاسی کارکن اور کی رہائی کا مطالبہ دنیا بھر کی پارلیمانوں نے کیا ہے اس کے بارے میں پاکستانی پارلیمنٹ خاموش ہے۔

بابا جان کون ہے؟

بابا جان ایک نوجوان سیاسی رہنما ہے جو لیبر پارٹی پاکستان میں 2003ء میں شمولیت سے قبل پیپلز سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا رہنما تھا۔ لیبر پارٹی میں شمولیت کے بعد اس نے گلگت بلتستان میں پروگریسو یوتھ فرنٹ کو مقبول بنا دیا۔ جب لیبر پارٹی پاکستان نے 2012ء میں دیگر دو پارٹیوں سے مل کے عوامی ورکرز پارٹی کی بنیاد رکھی تو وہ اس کا نائب صدر منتخب ہوا۔

باباجان پروگریسو یوتھ فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بھاشا ڈیم مخالف تحریک میں پیش پیش رہا۔ وہ اور ان کے ساتھیوں نے اس غرض سے جب ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تو پارک ہوٹل گلگت کے سامنے ان پر پولیس نے بہیمانہ تشدد کیا اور کئی افراد کو کینٹ تھانے کے حوالات میں بند رکھا۔ مگر بابا جان اور ان کے ساتھیوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔

2005ء کی فرقہ وارانہ کشیدگی میں انہوں نے لیبر پارٹی کی مدد سے گلگت میں امن کانفرنس کی بنیاد رکھی اور لوگوں کو پیغام دیا کہ وہ امن کا دامن تھامے رکھیں اور فسادات کی بجائے مل کر اپنے حقوق کے لئے کام کریں۔

2005ء میں ہی وہ گلگت بلتستان کی قوم پرست اور ترقی پسند جماعتوں کے اتحاد جی بی ڈی اے میں شامل ہوئے اور متعدد جلسے جلوسوں میں اپنی پرجوش تقریروں کی وجہ سے نوجوانوں میں مقبول ہوگئے۔ سینکڑوں نوجوانوں نے ان کی تنظیم جوائن کی۔

وہ سوست ڈرائی پورٹ سے میر فیملی کو بے دخل کرانے کی تحریک میں بھی پیش پیش رہے۔ اس دوران وہ جلسے جلوس کرتے رہے۔ انہوں نے ہنزہ کے لئے قانون ساز اسمبلی میں اضافی نشستوں کی بات 2001ء سے کرنی شروع کی تھی۔ جس کے لئے انہوں نے متعدد بار احتجاجی مظاہرے کیے اور ان پر مقدمات بھی بنتے رہے۔

4 جنوری 2010ء کو سانحہ عطا آباد جھیل ہوا۔ بابا جان نے عطا آباد جھیل کے متاثرین بارے ایک مہم چلائی کہ منصفانہ طور پر ان کے نقصان کو پورا کیا جائے۔ جب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ کے خلاف عطا آباد جھیل متاثرین نے احتجاج کیا تو پولیس نے علی آباد میں گولی چلا کر باپ بیٹے کو شہید کر دیا۔

بابا جان نے اس پولیس گردی کے خلاف ایک زبردست مہم چلائی اور ذمہ داران کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کو گرفتار کرنے کی بجائے بابا جان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات لگا کر کئی مقدمات درج کیے گئے اور پھر ان کو گرفتار کر لیا گیا۔

13 مہینے جیل میں گزارنے کے بعد باباجان ضمانت پر رہا ہوئے۔ ان کی رہائی پر نوجوانوں نے جشن منایا اور پاکستان بھر میں موجود گلگت بلتستان کے نوجوانوں اور ترقی پسند جماعتوں نے ان کی جدوجہد کو سلام پیش کیا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے نوجوانوں کی سیاسی تر بیت کے لئے جگہ جگہ خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا۔ وہ اس مقصد سے گلگت بلتستان کے کونے کونے میں گھومتے رہے اور پاکستان کے دیگر شہروں میں موجود گلگت بلتستان کے نوجوانوں سے بھی رابطہ کیا۔

وہ اپنے سوشلسٹ اور غریب پرور نظریات کی وجہ سے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوئے اور آج بھی گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں ان کے چاہنے والے نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں‘ جو ان کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔

2013ء میں گندم کی سبسڈی کی بحالی کے لئے جب عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان بنی تو بابا جان کو ضلع ہنزہ نگر کی ذمہ داری مل گئی۔ انہوں نے وہاں تاریخی مظاہروں کا انعقاد کیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک میں پیش پیش رہے۔ جس کے نتیجے میں حکومت نے سبسڈی بحال رکھی۔ 2014ء ان کی ضمانت منسوخ ہوئی اور وہ دوبارہ جیل چلے گئے۔ اس دوران انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین مقدمات میں مجموعی طور پر ان کو 71 سال کی سزا سنائی۔ وہ اس وقت بھی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں اور اپنی سزا کے فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جو زیر سماعت ہے۔

جب 2015ء میں ہنزہ کی سیٹ پر انتخاب ہوا تو بابا جان نے جیل سے انتخاب میں حصہ لیا اور دوسرے نمبر پر رہے۔ جب اسی سیٹ پر دوبارہ ایک ضمنی انتخاب ہوا تو بابا جان ایک انتہائی پاپولر امیدوار کے طور پر ابھرے۔ اس دوران اس انتخاب کو بار بار ملتوی کیا گیا تا کہ بابا جان یہ سیٹ جیت نہ لے۔ پھر جب ان کی مقبولیت کو ختم نہ کیا جا سکا تو سپریم کورٹ کے ذریعے ان کی معطل سزا کو بحال کرا دیا گیا کہ وہ انتخاب میں حصہ نہ لے سکیں۔

بابا جان کی رہائی کے لئے دنیا کے 45 ممالک میں احتجاج یا پارلیمانی قراردادیں پیش ہو چکی ہیں۔ وہ ایک سیاسی قیدی ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی کر چکی ہے۔

ان کی رہائی کی ایک پٹیشن پر 2017ء سے اب تک دنیا بھر کے ہزاروں دانشوروں، ممبران پارلیمنٹ، پروفیسروں، سیاسی رہنماؤں، ٹریڈ یونینوں اور نوجوانوں نے دستخط کیے ہیں۔ ان میں نوبل انعام جیتنے والے لوگ بھی شامل تھے اور نوم چومسکی اور طارق علی بھی۔

ان کی سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ پورے ملک کے ترقی پسند افراد ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

تحریر: فاروق طارق

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔