گلگت بلتستان کا سیاسی المیہ

تعلیم ہر انسان کی بنیادی ضرورت بھی ہے اور حق بھی. چاہے امیر ھو یا غریب، مرد ھو یا عورت، تمام انسانوں کو زیور تعلیم سے خود کو آراستہ کرنا ناگزیر ہے. یہ دنیا کی واحد دولت ہے جسے اگر کوئی چھیننا چاھے تو بھی نہیں چھین سکتا. انسان اور دیگر مخلوقات میں فرق بھی علم اور عمل کا ہی ھے کہ دیگر مخلوقات میں یہ اہلیت نہیں ھوتی کہ وہ اپنی معلومات اور علم میں اضافہ کر سکے۔
علم ہی ایسی چیز ھے جو انسان کو مہذب بناتی ہے، اسے اچھے اور برے میں فرق سکھاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھوں کی زیادہ عزت ہے اور یہ عزت ہونی بھی چاہئے کیونکہ تمام برائیوں کا حل علم کے ذریعے ہی تلاش کیا جا سکتا ھے۔
الله پاک نے اپنے پیارے حبیب سر کار دو عالم ص پہ وحی کا آغاز بھی علم سے متعلق سورة العلق کی آیت نازل کر کے ہی کیا۔ ایک صاحب علم اور ایک جاھل میں زمین اور آسمان کے فاصلے جتنا فرق ھوتا ھے۔ ایک عالم ہی معاشرے کا اصلاح کر سکتا ھے۔ عالم سے مراد صرف ملا نہیں ھوتا. یہ ہمارے معاشرے میں بہت ہی غلط تشریح ھے۔ عالم سےمراد ہر وہ بندہ جو اپنے معاشرے کے دوسرے لوگوں سے زیادہ جانتا ھو وہی عالم کہلانے کا حقدار ہے۔
ایک پڑھا لکھا انسان ہی معاشرے میں سدھار لا سکتا ھے اور ایک عالم ہی معاشرتی برائیوں کو سمجھ کر انکا حل تلاش کر سکتا ہے۔
جن اقوام نے علم کو اہمیت دی وہ ترقی کی منزلوں کو چھو رہی ھیں۔ جب ہم ترقی یافتہ ممالک کے بارے میں مطالعہ کرتے ھیں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ھے کہ انکی ترقی کا راز علم میں چھپا ھوا ھے۔ مغربی ممالک کی ترقی علم کو اہمیت دینے کی وجہ سے ممکن ھوئی جبکہ مشرق کا زوال بھی علم کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے ھے۔
علم کی اہمیت میں اتنی تمھید باندھنے کا مقصد ہمارے پڑھے لکھے طبقےکو ایک اہم ایشو کی طرف متوجہ کرنا ھے۔ ہمارے علاقے گلگت بلتستان میں لوگوں کی تعلیم کی طرف رجحان بہت ذیادہ ھے جو کہ ان شاء اللہ مستقبل قریب میں کامیابی کی بہت بڑی وجہ بنےگا. ہمارے صوبہ کی شرح خواندگی باقی صوبوں کی نسبت بہت ذیادہ ھے۔ ہمارے پاس علم تو ھے لیکن عمل نہ ھونے کے برابر ھے جبکہ بغیر عمل کے علم کسی کام کا نہیں.

اس تحریر کی وساطت سے راقم گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے نوجوان طبقے سے مخاطب ہوں. علم حاصل کرنے کا مقصد اپنے معاشرے کی اصلاح کرنا اور معا شرے کے لیے درست سمت کا تعین کرنا ھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تعلیم یافتہ لوگوں کو اپنا نمائندہ مانیں اور انکی حوصلہ افزائی کریں.
2020 گلگت بلتستان میں الیکشن کا سال ہے، یہ اپنی تقدیر بدلنے کا سال ھے۔ ہماری تقدیر تب بدلے گی جب ہم پیسوں کے بجائے قابل لوگوں کو ترجیح دیں گے. ہمارے علاقے کا یہ المیہ رہا ھے جب کوئی بندہ کچھ نہیں کر سکتا وہ سیاست کے شعبے میں آجاتا ہے اور اس میں سب سے بڑی غلطی ہمارے پڑھے لکھے لوگوں اور معاشرے کی ھے۔
آج بھی ہمارے پڑھے لکھے نوجوان نوکری کے چکر میں نا اہل لوگوں کے لیے میدان خالی کر دیتے ھیں۔ اور یہ نا اہل لوگ عوام سے ووٹ لے کے آتے اور کسی پنجابی یا سندھی کیساتھ سیلفی کھنچوا کر خوش ھوتے ھیں ان کو پتہ نہیں ھے کہ انکے پاس کتنی طاقت ہے اور یہ کیا کیا کرسکتے ھیں۔ یہ انکی غلطی نہیں ھے بھیڑ چال اور غلط ماحول کا اثر بھی ہے. میں ہر پارٹی کے پڑھے لکھے جوانوں سے کہتا ھوں خدارا دوسروں کی خوشامد کرنا چھوڑ دیں اور اپنی پارٹیوں سے پڑھے لکھوں کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کریں .پڑھے لکھے لوگ ہمارے حکمراں ھونگے تو ہماری تقدیر بدل جاۓ گی۔ یہ مذاق نہیں ہمارے مستقبل کا سوال ھے۔ خدارا سوچئے اور درست سمت میں کام کا آغاز کیجئے.

تحریر: راجہ حسین راجوا

About یاور عباس

یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.