گلگت بلتستان کا 71 واں یوم آزادی آج جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے

گلگت بلتستان (ویب ڈیسک) گلگت بلتستان کا 71 واں یوم آزادی آج جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے، جس کے باعث صوبے میں عام تعطیل ہے۔یوم آزادی کی مرکزی تقریب تاریخی چنار باغ میں ہوگی، جس کے اختتام پر آزادی جیپ ریلی نکالی جائے گی۔

پاکستان کی آزادی کے بعد تقریباً چار ماہ تک اہل گلگت اور بلتی عوام نے ڈوگرا راج کی غلامی کے خلاف جنگ لڑی، جس کے بعد بالآخر یکم نومبر 1947 کو غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزادی حاصل کی.

یکم نومبر 1947 سے پہلے ہمارے لوگ ڈوگروں کے زرخرید غلاموں کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہے تھے ۔ مختلف قوتیں مسلمانوں کو ورغلا کر ان کے اندر اختلافات کا بیج بو کر مسائل کو ہوا دے رہے تھے۔ دوسری طرف ہمارے معاشی حالات کمزور تھے پہننے کے لئے لباس میسر نہیں تھا اور اپنی زمین پر اناچ اگانے کے لئے کوئی جدید مشین نہ تھی ایسے حالات میں مجبوراً ہمارے آباوًاجداد نے انقلاب آزادی گلگت کا نعرہ بلند کیا نتیجتاً نومبر 1947 کو ڈوگرہ راج سے 28 ہزار مربع میل پر پھیلی یہ عظیم دھرتی قابل ستائش قربانیاں پیش کر کے آزاد کرا لی گئی جس میں کرنل مرزا حسن خان، بابر خان، صوبیدار شیر علی ، گروپ کیپٹن شاہ خان ،کرنل احسان علی، کیپٹن محمد علی ، صوبیدار رستم ، صوبیدار مفتی اللہ اور صوبیدار مجاہد بختاور کی قیادت قابل ذکر ہے جنہوں نے بے سروسامانی کی حالت اور بغیر کسی خارجی ہتھیار کے اپنے زور بازو سے انقلابِ آزادی کا یہ باب رقم کیا۔

اسی خوشی میں ہر سال گلگت بلتستان بھر میں یکم نومبر کا دن یوم آزادی کے طور پر مناکر پاکستان سے جڑے رشتے کو اور بھی زیادہ مضبوط کیا جاتا ہے۔2009 کے گورنر آرڈر کے تحت شمالی علاقہ جات کا نام تبدیل کرکے گلگت بلتستان رکھا گیا اور صوبے کا درجہ دیا گیا۔

انتظامی اعتبار سے گلگت بلتستان کو 3 ڈویژنز میں تبدیل کیا گیا اور اس کے اضلاع کی تعداد 5 سے بڑھا کر 10کردی گئی، جس میں گلگت، اسکردو، غذر، دیامر، گانچھے، استور، ہنزہ، نگر، شگر اور کھرمنگ شامل ہیں۔

گلگت بلتستان میں 8 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہ ایک سیاحتی خطہ ہونے کے ساتھ دفاعی اور جغرافیائی اعبتبار سے بھی بےحد اہم ہے، جس کی سرحدیں چین، بھارت اور وسط ایشائی ریاستوں سے ملتی ہیں۔

16 ہزار فٹ پر دنیا کی بلند ترین گذرگاہ درہ خنجراب بھی گلگت بلتستان کی ایک شان ہے۔ کے ٹو سمیت دنیا کی کئی بلند چوٹیاں بھی اسی خطے میں ہیں۔اہم سیاحتی مقام گلگت، اسکردو، ہنزہ، نگر اور نلتر سمیت متعدد مقامات کی سیر کے لیے ہر سال لاکھوں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

About یاور عباس

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful