گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت دوبارہ زیربحث

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر منعقدہ سیمینار میں زور دے کر کہا گیا کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنانے سے مسئلہ کشمیر پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عوام خصوصاً نوجوان نسل میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو فوری طور پر مکمل آئینی اور بنیادی حقوق دے، راولپنڈی آرٹس کونسل میں گلگت بلتستان اویئرنس فورم کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق آئی جی سندھ اور معروف تجزیہ کار افضل علی شگری نے کہا کہ وفاق کو اس بات کا احسان مند ہونا چاہیے کہ متنازعہ نہ ہونے کے باوجود ہم نے خود کو کشمیریوں کی خاطر متنازعہ ہونا قبول کیا حالانکہ ستر سالہ محرومیاں ایک سانحے سے کم نہیں انہوں نے کہا کہ معاہدہ کراچی کرتے وقت خطے کے لوگوں کو پوچھا تک نہیں گیا اس کے بعد ہم متنازعہ ہو گئے اور گلگت بلتستان کو چند بابوئوں کے حوالے کر دیا جو سب سے پہلا انتظامی سربراہ بن کر وہاں آیا تھا انہوں نے سب سے پہلے انگریزوں کا قانون ایف سی آر نافذ کر دیا۔ 1972ء میں بھٹو نے بھی ایک کمیٹی بنائی تھی آغا شاہی کی سربراہی میں کمیٹی نے اپنی سفارشات میں واضح کیا تھا کہ اس خطے کو پاکستان کا آئینی حصہ بنانے میں کوئی آئینی اور قانونی رکاوٹ موجود نہیں، پاکستان اسے باقاعدہ حصہ بنا سکتا ہے لیکن اس وقت صرف ہندوستان کی ناراضگی کا ڈر تھا یہ سلسلہ چلتا رہا، بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت کو انڈیا کی ناراضگی کا ڈر تو ہے لیکن اس خطے کے عوام کی ناراضگی کی کوئی فکر نہیں اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ گلگت بلتستان کو مین سٹریم میں لانے میں ہر دور میں پیپلزپارٹی کا اہم کردار رہا ہے، 1972ء کے بعد 1994ء اور پھر 2009ء کے گورننس آرڈر تک پیپلزپارٹی نے ہی دیئے اس وقت بھی انہیں ہندوستان کی ناراضگی سے ڈرایا گیا افضل شگری نے کہا کہ اس سارے منظرنامے کے دوران ایک خاموش انقلاب آیا آج اس کا نتیجہ سامنے ہے اور یہ ہمارے نوجوان ہے ، سیاسی جدوجہد میں آج نوجوان میدان میں آ گئے یہ ایک انقلاب ہے کیونکہ قوم کا سرمایہ جوان طبقہ ہی ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک تھینک ٹینک بنایا تھا تا کہ غور کیا جا سکے کہ آخر اس مسئلے کا کوئی حل بھی ہے کہ نہیں۔ اس تھینک ٹینک میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی وزارت خارجہ کے اہم افسران جہانگیر قاضی، منظور الحق اور آصف ایزدی شامل تھے ، بڑی محنت کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ خطہ یہاں کے لوگوں نے خود آزاد کیا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا یہ عوام کا فیصلہ تھا ہم نے اپنا فیصلہ دیدیا اور اب پاکستان فیصلہ کرے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق نگران وزیر اطلاعات عنایت اللہ شمالی نے کہا کہ سی پیک کی اہمیت ہے لیکن اس سے زیادہ اب گلگت بلتستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے کیونکہ اب باہر کی طاقتیں بھی سرگرم ہو گئی ہیں پہلے یہ ہوتا تھا کہ ہمارے اندر سے ہی ہمیں حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا، یہ لوگ ہمیں آپس میں لڑا کر مصروف رکھتے تھے اب سی پیک کی وجہ سے خاموش ہے لیکن بیرونی طاقتیں سرگرم ہیں نوجوانوں کو ہوشیار رہنا ہو گا کیونکہ سی پیک کی وجہ سے چین کے جو دشمن تھے وہ اب ہمارے بھی دشمن بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تماشے بہت ہوتے رہے ہیں ، اتفاق نااتفاق کا مسئلہ آج سے نہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام ایسی لڑائیوں اور رنجشوں سے الگ ہو کر ایک پیج پر کھڑے ہوں، عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما اور ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل سید علی رضوی نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک عجوبہ ہے کوئی اس کی شناخت، حیثیت اور مرتبہ ماننے کو تیار نہیں، یہاں کوئی سسٹم نہیں ہے ایک بات واضح کر دوں کہ پاکستان ایک نعمت اور ایک نظریہ ہے مریں گے لیکن پاکستان کو نہیں چھوڑیں گے لیکن عجوبہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے وسائل کو پاکستانی یہاں کے باسیوں کو غیر پاکستانی سمجھا جاتا ہے ،اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب لوگ آئینی حقوق کی ڈیمانڈ کرنا چھوڑ دیں ، انہوں نے کہا کہ ٹیکس ضرور دیں گے لیکن اس شرط پر کہ جو ٹیکس لیا جائے گا وہ خرچ بھی یہاں کے عوام پر ہو کونسل اور اسمبلی ممبران حکومتی افراد کی عیاشیوں کے لئے کبھی بھی ٹیکس نہیں دیں گے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1947ء سے اب تک ہم نے ملک کیلئے ہر طرح کی قربانی دی ، ہم ملک کی سرحدوں اور سی پیک کی حفاظت کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ ریاست کو گلگت بلتستان کی زمین چاہیے یا مکین؟ جو لوگ سیاچن ،کارگل اور دوسرے محاذوں پر لڑ سکتے ہیں وہ سی پیک کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں لیکن عوام کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ آئین چاہیے یا حقوق؟ کیونکہ حکومت نے کہہ دیا کہ آئین نہیں دے سکتے، ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر آپ آئین نہیں دے سکتے تو حساس معاملات کے علاوہ باقی تمام اختیارات دیئے جائیں کیونکہ ہمیں حقوق چاہئیں، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اس وقت عجیب صورتحال ہے خالصہ سرکار کے نام پر زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے یہ بہت ہی تشویشناک صورتحال ہے ، ہمارے صوبے کے وزیراعلیٰ کے سامنے کچھ مانگنا گناہ کبیرہ ہے، اقتصادی رابطہ کونسل میں دیگر صوبوں کے وزیراعلیٰ کا بائیکاٹ کیا تو ہمارے وزیراعلیٰ کو پتہ ہی نہیں تھا کہ کچھ مانگنا بھی ہے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن سلیم صافی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے اصل وارث وہاں کے عوام ہیں لیکن فیصلے اسلام آباد میں ہوتے رہے فاٹا اور گلگت بلتستان کا مسئلہ ایک جیسا ہے فاٹا میں بھی گلگت بلتستان جیسی صورتحال ہے لیکن چند عرصے سے نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے ان کو میں نے خود لیڈ کیا یہی وجہ ہے کہ حکومت انہیں قومی دھارے میں لانے پر مجبور ہو گئی انہوں نے کہا کہ جس طرح فاٹا یوتھ کو میں نے لیڈ کیا اسی طرح گلگت بلتستان کے معاملے پر بھی ساتھ رہوں گا اور ایک عام کارکن کی طرح جدوجہد میں شامل رہوں گا، انہوں نے کہا کہ سی پیک میں گلگت بلتستان کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے چین کا شروع میں موقف اور حکومت پاکستان سے مطالبہ رہا ہے کہ منصوبہ سی پیک کے مرکزی گزرگاہوں گلگت بلتستان اور فاٹا و گوادر میں لگائے جائیں ہمیشہ لانگ ٹرم منصوبے شروع کیے جائیں یہی وجہ ہے کہ چین نے سنکیانک جو سی پیک کا گیٹ وے ہے بالکل اسی طرح جیسے گلگت بلتستان ہے وہاں پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی سرمایہ سنٹرل چائنہ سے ویسٹرن چائنا یعنی سنکیانک پر لگایا گیا ہے ، سنکیانگ میں ٹیکس معاف ہے تعلیم مفت دی جا رہی ہے ، جے سی سی میں سنکیانگ کو مستقل نمائندگی دی گئی ہے لیکن یہاں پر گلگت بلتستان کو جے سی سی کی شکل بھی نہیں دکھائی گئی منصوبے گلگت بلتستان اور گوادر کی بجائے 90فیصد سنٹرل پنجاب میں لگائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے جے سی سی کے تمام اجلاسوں کی منٹس حاصل کیے ہیں اس میں کچھ اور ہے اور حکومت کچھ اور گردان دہرا رہی ہے میں ان تمام منٹس کو ایک کتابی شکل دوں گا تا کہ پتہ چلے کہ اصل حقیقت کیا ہے انہوں نے کہا کہ فاٹا کو جب آئینی دائرے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا تو اس وقت بھی یہی موقف اپنایا گیا کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہے ، اسی طرح گلگت بلتستان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو رہا ہے ہمیں چاہیے کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دے کر بھارتی سفارتی بلیک میلنگ کا جواب دے۔ وزیراعلیٰ کے میڈیا کوآرڈینیٹر رشید ارشد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ قوم کے ساتھ کھلواڑ کیا ، ہمارے قائدین نے ہمیں تقسیم کیا کوئی آئینی صوبہ مانگ رہا ہے تو کوئی کشمیر طرز کا سیٹ اپ ، آئینی صوبے کے ساتھ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی بھی چاہتے ہیں یہ غیرمنطقی ہے سی پیک کیلئے ٹیکس دینا ضروری ہے لیکن ہمارے لوگ تیار نہیں، گلگت بلتستان اویئرینس فورم کے مرکزی رہنما انجینئر شبیر حسین نے کہا کہ ستر سال سے یہ خطہ بے آئین ہے لیکن بدقسمتی سے ہمیں مسلکی ، لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا ، ذہنوں میں یہ ڈالا گیا کہ صوبہ ٹھیک نہیں ہے ، کشمیر طرز کا سیٹ اپ ٹھیک ہے ، کوئی کچھ اور کہتا ہے ، ایک نام نہاد صوبہ طرز کا سیٹ اپ دیا ہوا ہے اس میں بھی کوئی مقامی شخص چیف سیکرٹری نہیں بن سکتا، اربوں کی معدنیات موجود ہیں لیکن لوگ خط غربت میں پس رہے ہیں ، ہم اس طرح کے سیٹ اپ کو نہیں مانتے حکومتی اداروں کو نوجوانوں کے مجموعی مطالبے پر غور اور عمل کرنا ہو گا۔نجی ٹی وی کے اینکر پرسن عدیل عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں شعور اور آگاہی دیکھ کر خوشی ہوئی ، گلگت بلتستان کے لوگ انتہائی محنتی ہیں لیکن یہاں ایک چیز کا خیال رکھنا ہو گا کہ نوجوانوں کے درمیان کوئی دوسرا عناصر گھس نہ سکے اگر ایسا ہوا تو نوجوانوں کی تحریک ختم ہو جائے گی اور اس کا فائدہ کچھ نہیں نقصان بہت کچھ ہو گا، ہر کام آئین اور قانون کے دائرے میں کریں تو منزل قریب تر ہوتی ہے۔

About Yawar Official

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful