گندم سبسڈی اور ایفاد پراجیکٹ

مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں ٹارگیٹڈ سبسڈی وقت کی اہم ضرورت ہے اس کیلئے جامع اور شفاف سروے کی ضرورت ہے تاکہ گلگت بلتستان کے مستحق اور غریب عوام کو گندم کی سبسڈی کا فائدہ ملتا رہے۔وزیراعلیٰ اس سے پہلے بھی کئی بار اخباری بیانات میں یہ کہہ چُکے ہیں کہ گندم سبسڈی کے نام پر چند لوگوں نے اس خطہ کے عوام کو افیون کے نشے سے بھی زیادہ خطرہ ناک نشے میں ڈالا ہوا ہے، ماضی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ گلگت بلتستان میں گندم کا کاروبار افیون سے بھی زیادہ منافہ بخش کاروبار بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف ایک اور تازہ خبر کے مطابق سپیکر فدا ناشاد نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں گندم سمیت کئی دیگر اشیاء صرف پر سبسڈی کسی قانون سازی کے ذریعے نہیں بلکہ بھٹو دور میں انتظامی احکامات کے ذریعے منظور کی گئی تھی تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو گندم اور چند دیگرضروری اشیائے صرف ان کے علاقوں میں راولپنڈی اسلام آباد میں مروجہ نرخ پر میسر آسکے۔ جس کے لیے گلگت بلتستان کے مختلف علاقہ جات تک پہنچانے کے اخراجات حکومت برداشت کرتی رہی ہے۔ان بیانات کو پڑھنے کے بعد سب سے پہلے ہمیں اس چیز کا اداراک ہونا چاہئے کہ کیا تقسیم برصغیر سے پہلے مہاراجہ کے دور میں کیا گلگت بلتستان والے سبسڈی پر گزارہ کرتے تھے؟ تاریخ میں ایسی کوئی شواہد موجود نہیں جس میں کبھی مہاراجہ نے اس خطے کے عوام کیلئے کسی قسم کی سبسڈی کا اعلان کیا ہوا لیکن تاریخ کی کتابوں میں اتنا ضرور لکھا ہوا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام گندم اور غلہ کاشت کرکے مہاراجہ کے مقامی راجاوں کو گندم اور غلہ جنس کی شکل میں ٹیکس دینے کے ساتھ ساتھ کشمیر ایکسپورٹ بھی کرتے تھے۔ لہذا یہ کہنا کہ اس وقت کے حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام پر کوئی احسان کیا ایسا تاثر بلکل غلط ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مختلف جنگوں کی صورت میں یہ علاقے تقسیم در تقسیم ہوئے جس کے نتیجے میں لداخ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے تجارتی راستے بند کر دئے گئے ورنہ پہلے کسی خطے سے گندم لاتا تو کوئی خطہ دوسرے غذائی اجزاء کے بدلے یہاں سے غلہ لے جاتے۔ لہذا گلگت بلتستان جب خومختاری کی دنیا سے نکل کر متنازعہ کمرے میں داخل ہوئے تو اقوام متحدہ کی قوانین کے مطابق جو بھی متازعہ خطہ جس بھی ملک کے زیر انتظام ہیں اس خطے کے عوام کو سبسڈائز اشیاء کی فراہمی انکی ذمہ داری ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان والے اگر صرف گندم سبسڈی سے استفادہ حاصل کرتے ہیں تو لداخ ریجن میں چاول،آٹا،شوگر،مٹی کے تیل ،کسان لون،مشینری وغیرہ پر بھی سبسڈی حاصل ہے۔ لیکن بدقسمتی ہے اس قوم کی کہ ہمارے عوامی نمائندوں نے قوم کو اصل مسائل کی حل کرنے کیلئے کوشش کرنے کے بجائے ایسے ایشوز میں عوام کو الجھایا ہوا ہے جسکا نتیجہ ماضی کی طرح دھرنوں کے علاہ کچھ نہیں۔ کہتے ہیں ریاست وہاں کے عوام کیلئے ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے عوام کیلئے آج تک سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک تو ماں خود غرض ہے اور انکے بس میں کچھ نہیں، اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس ماں نے اس خطے کو کچھ دینے کے بجائے یہاں ماں حق کیلئے اُٹھ کھڑنے ہونے کا مطالبہ کرنے والے بچوں کو بھی غیروں جیسا سلوک کرتے ہیں۔جو بھی لوگ اس وقت گلگت بلتستان سے گندم سبسڈی ختم کرنے کی حمایت کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ پہلے کرگل سکردو ، گلتری دراس،استور سرنگر کے تجارتی راستوں کو کھولنے کیلئے کوشش کریں تاکہ گلگت بلتستان ماضی کی طرح آج بھی ایک تجارتی حب بن سکے۔دوسری بات ریاست کے ذمہ داران کو چاہئے کہ یہاں انصاف پر مبنی فیصلے کریں کیونکہ موجودہ حکومت کے اندر انصاف کا عنصر بدقسمتی نے کہیں نظر نہیں آتا جس کی ایک واضح مثال ایفاد پراجیکٹ ہے جسے اگر انصاف کی انکھ سے دیکھیں تو سب سے پہلے نولود مود اضلاع اور پھر زمین کی وسعت والے اضلاع کے میں اس پراجیکٹ کے تحت کام کرنا چاہئے تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ کہتے ہیں اس پراجیکٹ کی تکمیل کے نتیجے میں گزشتہ ہزار سال میں جتنی زمینیں آباد نہیں ہوئی اتنی زمین اس پر وجیکٹ کے ذریعے پانچ سالوں میں آباد کیا جائے گا۔ لہذا حکومت وقت کو چاہئے کہ کسی مخصوص علاقے، فرقے یا سوچ کی نمائندگی کرنے کے بجائے 28ہزار مربع میل خطے کی حاکم بنیں اور اسی لحاظ سے منصافانہ طریقے سے ترقی اور تعمیر کے کاموں کی تقسیم کو یقینی بنائیں اور اس قوم پر گندم سبسڈی کا احسان جتانے کے بجائے قوم کے وہ حقوق دلانے کیلئے عملی کوشش کریں جو آپ پر فرض اور قرض ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس وقت حق مانگنا بھی ایک طرح سے غداری کے زمرے میں شامل کیا جارہا ہے ، سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے میں متنازعہ آئینی حیثیت کو سامنے رکھ کر مطالبہ کرنے کے بجائے چند منصوبوں کو حاصل کل سمجھ کر شکرانے پڑھنے کی تیاریاں ہورہی ہے۔ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر دو ٹوک موقف اپنانے کے بجائے اپنے ہی عوام کو منفی اور جھوٹے اعلانات کے ذریعے گمراہ کیا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کے مقامی حکومت کو چاہئے کہ اس سنہرے مواقع کا فائدہ اُٹھائیں عوامی مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو دستور پاکستان میں ترمیم کرکے آئینی طور پر پاکستان کا پانچواں صوبہ ڈکلیر کرنے کیلئے عملی جدوجہد کریں ایسا ممکن نہ ہونے کی صورت مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل کرتے ہوئے اس خطے کو آذاد کشمیر طرز پر خود مختاری دینے کا مطالبہ کریں اس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا دفاع مضبوط ہوگی گلگت بلتستان میں پاکستانی قوانین کو مزید تقویت ملے گی۔ ایسا نہ کرکے صرف سبسڈی پر حق جتانا آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جہاں دنیا گلوبل ولیج بن چُکی ہے سائنس اور ٹیکنالوجی بہت ترقی کر چُکی ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمارے عوام کو آج بھی2Gکی سہولیات بھی میسر نہیں،یہی وجہ ہے کہ نئی نسل نے سوال اٹھانا شروع کیا ہے سوشل میڈیا پر ایک انقلاب پرپا ہے جو وقت آنے پر میدان میں بھی اُتر سکتا ہے،لہذا اس خطے کی حقوق کے حوالے سے جھوٹ بولنا ترک کریں اور متازعہ حیثیت کے پیش نظر جو حقو ق دیا جارہا ہے اس پر احسان نہ کریں بلکہ قانون کے مطابق منصفانہ حکمت عملی کے تحت اس قوم کو حقوق دلانے کیلئے کوشش کریں ۔

از۔ شیر علی انجم

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful