گوادر پراجیکٹ امریکہ کی موت ہے

گوادر پراجیکٹ امریکہ کی موت ہے جس کے لیے وہ پاکستان پر جنگ بھی مسلط کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
امریکی معیشت اس حد تک تباہ ہوچکی ہے کہ وہ چین سے قرض لینے پر مجبور ہے امریکہ چین سے بانڈز کی شکل میں قرض لیتا ہے جس پر وہ سود دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اندازہ ہے کہ اگر امریکہ پر چین اپنے قرضے بند کر دے تو صرف دو یا تین ہفتوں میں امریکی معیشت جواب دے جائے گی ۔۔۔۔!
اب تک امریکہ چین کا 3000 بلین ڈالر سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے یاد رہے کہ پاکستان پر ٹوٹل قرضوں کا حجم 77 بلین ڈالر ہے۔۔۔۔۔۔۔!
لیکن چین امریکہ کو قرضے دینے پر مجبور ہے وجہ یہ ہے کہ چین میں تیل نہیں ہے اور جن بحری راستوں سے چین اپنے ملک میں تیل سپلائی کرتا ہے وہ امریکہ اور انڈیا کنٹرول کر رہے ہیں ۔۔۔۔ چین کو اپنی تیز رفتار بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے تیل کی سخت ضرورت ہے۔۔۔۔اگر ان راستوں کی ناکہ بندی کر کے چین کو تیل کی ترسیل روک دی جائے تو چینیی معیشت دھڑام سے نیچے آگرے گی۔۔۔۔۔!
گوادر کو اگر آپ نقشے میں دیکھیں تو یہ ان خلیجی ممالک کے بلکل سامنے آتا ہے جہاں سے چین اپنی تیل کی ضروریات پوری کر سکتا ہے اس طرح چین امریکہ اور انڈیا کو بائی پاس کر لے گا نیز یہاں سے پاکستان اور چین مل کر انڈیا اور جاپان سمیت اس خطے کی ساری تجارت کو کنٹرول کر لیں گے کیونکہ کھلے سمندر میں 200 کلومیٹر تک کا علاقہ پاکستان کا ہے اور یہ علاقہ دنیا کی ساری آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
( راحیل شریف نے پاکستان کی سمندری حدود میں 50 ہزار مربع کلومیٹر کا مزید اضافہ کر لیا ہے جس کے بعد یہ حدود بڑھ گئی ہیں)
چین کو یہ روٹ مل جائے تو وہ کسی بھی وقت امریکہ کو قرض دینا بند کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔!
اس خطرے کو محسوس کر کے ایک بار امریکہ افغانستان میں شاہراہ ریشم کے قریب میزائلز بھی فٹ کرنے کا پروگرام بنا چکا تھا جس پر پرویز مشرف نے فوراً اعلان کیا تھا کہ چونکہ پاکستان میں بجلی کی کمی ہے لہذا پاکستان ترکمانستان سے بجلی درآمد کرے گا بجلی کی وہ ٹرانسمیشن لائن امریکہ کی ممکنہ میزائل سسٹم کے اڈے کے قریب سے گزرنی تھی ساتھ ہی اعلان کیا کہ چونکہ افغانستان کے حالات محفوظ نہیں لہذا پاکستان اپنی ٹرانمیشن لائن کی حٖفاظت کے لئے وہاں پاک فوج تعینات کرے گا امریکہ مشرف کی اس چال کو سمجھ گیا اور اپنا منصوبہ ترک کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
آپ یہ بھی نوٹ کیجیے کہ ٹی ٹی پی کے پہلے امیر عبد اللہ محسود نے گونتانا موبے سے رہائی کے فوراً بعد سب سے پہلے گوادر پراجیکٹ پر کام بند کروانے کی کوشش کی تھی۔
گوادر دنیا کی سب سے گہری بندرگاہ ہے اور یہاں جہاز کو بیچ سمندر میں لنگر انداز کرنے کے بجائے عین کنارے پر لنگرانداز کیا جا سکتا ہے۔ جو ایک بہت بڑی سہولت ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک بیش بہا فائدہ مند منصوبہ ہے۔ اس کے لیے آنے والی 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری محض چٹکی ہے اس کے مقابلے میں جو آنے والے دنوں میں پاکستان یہاں سے حاصل کر سکتا ہے۔ ایران کی گیس یہاں سے ہوتے ہوئے چین جا سکتی ہے۔ روس اور وسطی ایشائی ممالک کے لیے بھی یہ ایک اہم ترین بندگار بن سکتی ہے اور پاکستان ان ممالک کو بھی بذریعہ سڑک یا ریلوے لائن گوادر سے ملا سکتا ہے۔ چین کی سالانہ کئی سو ارب ڈالر کی ٹریڈ میں سے بہت بڑا حصہ یہاں سے ہو کر جائیگا۔
ان سارے ممالک کی اس تجارت کا ایک فیصد بھی پاکستان کو ملے تو پاکستان فوری طور پر تمام معاشی بحرانوں سے نکل آئیگا۔ ایران، روس اور چین جیسی طاقتیں سٹرٹیجکلی پاکستان پر انحصار کرینگی۔
گودار بھی آمریت ہی کا تحفہ ہے۔ یہ 1958 کے آمرانہ دور میں عمان سے خریدا گیا۔ بعد میں اس کو صوبہ بلوچستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس پراجیکٹ کو باقاعدہ انداز میں شروع کرنا بلاشبہ مشرف حکومت کا کارنامہ تھا جس سے بعد میں آنے والی جمہوری حکومت نے مجرمانہ غفلت برتی۔ زرداری کے پانچ سالہ دور اس پر کام رکا رہا ۔۔۔۔۔۔۔ نواز شریف کی آمد تک اس پر خاموشی رہی بلکہ نواز شریف نے گوادر پراجیکٹ کے لیے ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن منصوبے پر کام بند کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
راحیل شریف جب آرمی چیف بنا تو اس نے چند ماہ بعد یک دم گوادر پراجیکٹ اور اس کے لیے قائم کی جانی والی راہداری پر نہایت جارحانہ انداز میں کام شروع کر دیا۔
اس سلسلے میں راحیل شریف نے بلوچستان میں ایک وسیع آپریشن کر کے نہ صرف اس منصوبے کے خلاف ہونے والی سازشوں کا قلع قمع کیا بلکہ جب انڈیا نے گوادر کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے ایران کی چاہ بہار کو چین کے سامنے پیش کرنا شروع کیا تو راحیل شریف نے معاشی رہداری پر بغیر سیکورٹی کے سفر کر کے دکھایا اور فوری طور پر چین کا دورہ کر کے اس کے تحفظات کو بھی دور کیا۔
گوادر پراجیکٹ کے لیے قائم کی جانے والی رہداری پر بلوچستان میں پاک فوج کے زیر نگرانی کام نہایت تیزی سے جاری ہے لیکن پنجاب اور خیبر پختنوخواہ میں سیاسی قیادت میں موجود اختلافات کی وجہ سے اس پر کام کی رفتار کافی سست ہے۔
نواز شریف نے منصوبے کی تفصیلات چھپا کر اس کو مشکوک کیا تو عمران خان اور فضل الرحمن وغیرہ نے اس پر کام ہی بند کروانے کا عندیہ دے دیا۔ اللہ عمران خان اور مولانا صاحب کو عقل سلیم دے۔ اس منصوبے کے لیے وہ جن اضافی روٹس پر اعترضات کر رہے ہیں وہ اب بھی کم ہیں۔ یہاں جتنی ہیوی ٹریفک آنی ہے شائد یہ 3 روٹس بھی اس کے لیے کم پڑ جائیں۔
اس پراجیکٹ کو ہر حال میں اور نہایت تیزی سے مکمل کیا جانا چاہئے۔ جتنا وقت ضائع ہوچکا وہ بھی ناقابل تلافی ہے۔ بعض سیاست دانوں اور نام نہاد لیڈروں کی گوادر پراجیکٹ کی مخالفت سے انکی حب الوطنی ،امریکہ سے وفاداری اور انکے سیاسی شعور کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
آئی ایم ایف سے بھاری قرضے لینے کے بعد گوادر اور اس کے لیے قائم کی جانے والی راہداری پر خاموشی، گوادر پرجیکٹ تباہ کرنے کے مشن پر آئے ہوئے کل بھوشن پر خاموشی موجودہ حکومت پر ایک سوالیہ نشان ہے!

About وائس آف مسلم

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful