ہری پور کے صحافی سہیل خان کا مبینہ قاتل چمن بارڈر سے گرفتار

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں صحافی سہیل خان کے قتل میں ملوث ملزم کو پولیس نے چمن بارڈر سے گرفتار کرلیا ہے۔ ملزم پاکستان سے براستہ چمن بارڈر ایران فرارہو رہا تھا۔

ہری پور کے صحافی اور روزنامہ کے ٹو ٹائمز کے نمائندہ سہیل خان کو 16 اکتوبر کو پولیس اسٹیشن حطار کے حدود میں ملزم نے گولی مارکر قتل کیا تھا۔

اس سے پہلے  جون 2017 میں ہری پور کے علاقہ سرائے صالح میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے ایک سینیئر صحافی بخشش الہی کو موت کے گھاٹ اتارا تھا جس کے قاتل تاحال نہیں پکڑے گئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر ہری پور سہیل امان نے بدھ کی دوپہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صحافی سہیل خان کے قتل کی ایف آئی آر میں نامزد ملزم ہمایوں خان واردات کے بعد فرار ہوگیا تھا جس کی مسلسل ریکی کی جارہی تھی۔ گزشتہ روز موبائل لوکیشن کے ذریعے ملزم کو چمن بارڈر پر ٹریس کرکے گرفتار کرلیا ہے۔

ڈی پی او نے کہا کہ ملزم چمن بارڈر کے راستے ایران فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔

روزنامہ کے ٹو ٹائمز کے نیوز ایڈیٹر شفیق شاہ نے 16 اکتوبر کو سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا تھا کہ ہری پور پولیس نے ایک منشیات فروش کو گرفتار کیا تھا اور سہیل نے اس گرفتاری کی خبر اخبار کو بھیجی جو شائع ہوگئی۔

اس خبر کے شائع ہونے پر منشیات فروش کا بیٹا سیخ پا ہوگیا اور جب ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا تو سہیل بھی خبر کی تلاش میں پہنچ گیا جہاں ملزم کے بیٹے نے سہیل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

مقتول صحافی سہیل خان کی فائل فوٹو

سہیل نے ان دھمکیوں سے پولیس سمیت علاقہ عمائدین کو بھی آگاہ کیا تاہم پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ جب سہیل اپنے بچوں کو اسکول سے لینے جارہا تھا تو ملزم نے راستے میں اس پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

ہری پور میں صحافیوں کے قتل کی یہ پہلی واردات نہیں ہے۔ اس سے پہلے  جون 2017 میں ہری پور کے علاقہ سرائے صالح میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے ایک سینیئر صحافی بخشش الہی کو قتل کردیا تھا۔

بخشش الہی بھی “کے ٹو ٹی وی” کے ہزارہ ڈویژن میں بیوروچیف تھے۔ رونامہ ‘کے ٹو’ کے ایڈیٹر سردار افتخار نے اس وقت بتایا تھا کہ بخشش الٰہی کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں اور وہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں خاصے متحرک تھے۔

قتل کے اس واقعے پر ہری پور سمیت دیگر علاقوں میں بھی صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

پاکستان  میں سال 2000ء سے لے کر اب تک مختلف واقعات میں تقریبا 120  صحافی مارے جا چکے ہیں جن میں 40 کے لگ بھگ کا تعلق خیبر پختونخواہ اور ملحقہ قبائلی علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔

About یاور عباس

یاور عباس
یاور عباس صحافت کا طالب علم ہے آپ وائس آف مسلم منجمنٹ کا حصہ ہیں آپ کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور جی بی کے مقامی اخبارات کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں وہاں کے صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.