ہزارہ

: یہ وہ بدقسمت قوم ہے جسکو میں نے، آپ نے، سب نے بھلا دیا ہے۔ ہمارے نزدیک ہر دو تین دن بعد دو تین لوگوں کا قتل ظلم نہیں رہا، ہمیں 85 لاشیں چاہیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دینے کیلئے۔ لیکن یہ سلو موشن وار کی سنگینی کا کسی کو احساس ہی نہیں۔ یہاں ایک ڈاکٹر چمران نہیں ہے، جو اس مظلوم قوم کو راستہ دکھائے ظالموں کی نگری میں کیسے جینا ہے؟ یہاں ایک بھی خمینی نہیں جو شہداء کے خون سے انقلاب برپا کرے، یہاں کوئی نہیں جو کربلا کا حقیقی سبق سکھائے۔ کاش کوئی بتا دے، خون کو طاقت میں کیسے تبدیل کرنا ہے، ظلم کو کیسے روکنا ہے۔۔۔۔
تحریر: لیاقت تمنائی

“آج پھر دو شہید ہوئے، کل ہی تو تین شہید ہوئے تھے” بات دل سے نکلی اور ایک آہ کے ساتھ ختم ہوئی، ان کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ یہ درد کی زبان ہے، جو مجھے بیان کر رہا ہے۔
دیکھو یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا، ظلم کی ایک انتہا ہے، لیکن یہاں ہر ظلم ابتدا ہے، اگلی باری کس کی؟ یہاں ہر شخص اپنی باری کے انتظار میں ہے۔
آپ چائے پی لیجئے ٹھنڈی ہو رہی ہے، میں نے نشاندہی کی، چائے کی پیالی ان کے سامنے پڑی ہوئی تھی، وہ کسی سوچ میں گم تھا اور ہر بات ٹھہر ٹھہر کر۔
پیالی ہاتھ میں اٹھائی تو میں نے دیکھا اس بار ان کی آنکھیں نم تھیں۔
”یہ احساس کسی میں بھی نہیں، کسی میں بھی۔۔۔ بس ایک گھونٹ اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے ایک لمبی آہ۔۔۔
”یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا” میں نے کہا کیا۔؟
یہاں ہر شخص اپنی باری کے انتظار میں ہے، ظلم جب معمولات زندگی بن جائے تو لواحقین کے علاوہ کوئی درد کو محسوس نہیں کرتا، یہاں کوئی چمران نہیں، کاش کوئی ایک ہی چمران ہو۔

کچھ تو حل ہوگا آغا؟
ہے۔۔۔ حل ہے
کیا ہوسکتا ہے حل۔؟
یہاں کتنے شہید ہوئے اب تک؟
گذشتہ 16 سال میں غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق 600 سے زائد
اور ٹوٹل؟
5000 سے زائد
”دیکھیں برادر، حزب اللہ کے کتنے شہید ہوئے؟ میں نے کہا ہزار کے لگ بھگ یا اس سے بھی کم”
اور فرق۔۔۔۔ آسمان زمین کا
جس قوم میں شہید ہو، وہ طاقتور ہو جاتی ہے، وہاں طاقتور یہاں کمزور کیوں۔؟
کیوں؟
ظلم پر سمجھوتہ کیا گیا ہے، امن کی ایک حد ہے، حد سے زیادہ امن تباہی ہے۔ فوج کا ایک اصول ہے، حالت امن میں بھی الرٹ رکھا جاتا ہے، ظلم جب احتجاج سے نہ رکے تو مزاحمت واجب ہے۔۔۔

مطلب؟
ظلم کو ختم کرنے کا مصمم فیصلہ کر لینا چاہیے، یہ ہتھیار کے بغیر بھی ممکن ہے۔۔
کیسے؟
ظلم ختم کرنے کا مصمم ارادہ، حکومت ختم کرنے کا مصمم فیصلہ کیا تو حکومت ختم ہوگئی، لیکن ظلم ختم کرنے کا مصمم ارادہ نہیں کیا، جب آپ کے سامنے دشمن کے ارادے واضح ہوں تو خاموشی اور سمجھوتہ کیسا؟ دشمن کے دو ہی مقاصد ہے، نسل کشی اور ملک بدری۔۔ نسل کشی بھی ہو رہی ہے اور ہجرت بھی۔
میں دیکھ رہا تھا اچانک سید جذباتی ہوگئے، آنسوﺅں کی لڑی تھی، زبان کی تھرتھراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے
”یہ وہ بدقسمت قوم ہے جس کو میں نے، آپ نے، سب نے بھلا دیا ہے۔ ہمارے نزدیک ہر دو تین دن بعد دو تین لوگوں کا قتل ظلم نہیں رہا، ہمیں 85 لاشیں چاہیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دینے کیلئے۔ لیکن یہ سلو موشن وار کی سنگینی کا کسی کو احساس ہی نہیں۔ یہاں ایک ڈاکٹر چمران نہیں ہے، جو اس مظلوم قوم کو راستہ دکھائے ظالموں کی نگری میں کیسے جینا ہے؟ یہاں ایک بھی خمینی نہیں جو شہداء کے خون سے انقلاب برپا کرے، یہاں کوئی نہیں جو کربلا کا حقیقی سبق سکھائے۔ کاش کوئی بتا دے، خون کو طاقت میں کیسے تبدیل کرنا ہے، ظلم کو کیسے روکنا ہے۔۔۔۔

About A. H

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful