تازہ ترین
روسی حکومت کی سربراہی میں ہیکرز نے دنیا بھر کے حساس کمپیوٹر راؤٹرز کو متاثر کیا، برطانیہ اور امریکہ کا الزاماسلام ٹائمز۔ امریکی اور برطانوی حکام نے الزام لگایا ہے کہ روسی حکومت کی سربراہی میں ہیکرز نے سائبر جاسوسی مہم چلائی ہے، جس میں حکومتی ایجنسیز، کاروبار اور اہم معلومات پر نظر رکھنے والوں کو ہدف بناتے ہوئے دنیا بھر کے کمپیوٹر راؤٹرز کو متاثر کیا۔ امریکا اور برطانیہ کے حکام نے ایک کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ان حملوں کے حوالے سے مشترکہ انتباہ جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد ان راؤٹرز، جو انٹرنیٹ کے انفرا اسٹرکچر کو سائبر جاسوسی مہم کا نشانہ بنا رہے ہیں، کو مستقبل کے لیے خبردار کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے سائبر سیکیورٹی کے کوآرڈینیٹر روب جوئس کا کہنا تھا کہ ہم جب سائبر سرگرمیوں میں دخل اندازیاں دیکھتے ہیں، چاہے وہ مجرمانہ یا دیگر قومی ریاستی اداروں کی سرگرمیاں ہوں، اس میں فوری مداخلت کی کوشش کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس نے فروری کے مہینے میں روس پر 2017 کے دوران سائبر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا اور برطانوی حکومت کے ساتھ مل کر روس کو یوکرین کے انفرا اسٹرکچر میں در اندازی اور عالمی طور پر کمپیوٹرز کو نقصان پہنچانے کی مذمت کی تھی۔ امریکا کے خفیہ اداروں نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ماسکو نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں دخل اندازی کی تھی اور وفاقی استغاثہ اس معاملے پر تحقیقات کر رہا ہے کہ گویا ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے روسیوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں یا نہیں۔ واضح رہے کہ ماسکو اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کردیا گیا تھا۔ امریکا اور برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس حوالے سے گزشتہ روز مشترکہ رپورٹ شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں حملوں کے حوالے سے تکنیکی معلومات دی جائیں گی تاکہ اداروں کو یہ معلوم ہوسکے کہ انہیں ہیک کیا گیا ہے اور مستقبل میں ایسے حملوں سے بچنے کے لیے پیشی اقدام اٹھا سکیں۔ حکومت نے متاثرین سے اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کی ہے تاکہ وہ اس مہم سے پڑنے والے اثرات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔ امریکا کے ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے سائبر سیکیورٹی کے حکام جینیٹ مانفرا کا کہنا تھا کہ ہمیں سائبر حملے سے ہونے والے نقصان کے حوالے سے مکمل معلومات نہیں ہیں۔ امریکی اور برطانوی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ متاثرہ راؤٹرز کو مستقبل میں خطرناک سائبر آپریشنز کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

15 سالہ پاکستانی طالبعلم نے اخلاقی ہیکنگ میں وطن کا نام روشن کردیا

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان کے 15 سالہ نوجوان احسن طاہر نے ’’ایتھیکل ہیکنگ‘‘ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے کر پاکستان کا نام روشن کردیا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے احسن طاہر اس وقت ہیکنگ کی طرف متوجہ ہوئے جب ایک سال قبل ان کی اپنی بنائی ہوئی ویب سائٹ ہیک کرلی گئی جسے واپس حاصل کرنے کی کوششوں میں انہوں نے انٹرنیٹ سے مدد لیتے ہوئے نہ صرف ہیکنگ سیکھی بلکہ ویب سائٹ سیکیوریٹی بہتر بنانے کے طریقوں سے بھی واقفیت حاصل کی۔

اپنے تجربات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے احسن طاہر کا کہنا تھا کہ جب ان کی ویب سائٹ ہیک ہوئی تو اسی وقت انہوں نے ویب سائٹ کو محفوظ بنانے کا فیصلہ کیا اور اپنے تجربے کی روشنی میں بعد ازاں انہوں نے مختلف کمپنیوں کو ان کی ویب سائٹس میں سیکیوریٹی کے حوالے سے موجود مختلف نقائص سے آگاہ کیا جس پر انہیں مناسب معاوضہ بھی ملا۔

جنوری 2016 میں انہوں نے سائبر سیکیوریٹی کی ایک کراؤڈ سورسنگ کمپنی ’’بگ کراؤڈ‘‘ (Bugcrowd) کے توسط سے اپنی خدمات فراہم کرنا شروع کیں اور مختلف اداروں کی بنائی ہوئی ویب سائٹس، آن لائن سافٹ ویئر اور ایپس کے ممکنہ طور پر ہیکنگ سے متاثر ہونے سے متعلق جانچ پڑتال کرکے رپورٹس مرتب کیں جس پر انہیں معاوضہ بھی دیا گیا۔ سرِدست وہ بگ کراؤڈ پر ترقی کرتے ہوئے 388 ویں نمبر پر پہنچ چکے ہیں۔

ان کے والد کا کہنا ہے کہ احسن روزانہ اسکول سے گھر آنے کے  بعد تقریباً 6 گھنٹے ہیکنگ کرتے ہیں جس کے بعد وہ ہوم ورک کرنے بیٹھتے ہیں۔ احسن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی ہیکنگ کے خطرے سے دوچار ہے  لہٰذا پاکستان کو بھی سائبر سیکیوریٹی کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

About VOM URDU

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful