سعودیہ اور انڈیا کے تجارتی، سکیورٹی اور دفاعی تعلقات پر ایک نظر

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

سرزمین حجاز ہمارے لئے انتہائی مقدس سرزمین ہے، یہ ہماری عقیدتوں کا مرکز بھی ہے، لیکن اس مقدس سرزمین پر مسلط آل سعود کی حقیقت کیا ہے، کوئی بھی منصف مزاج شخص جب انکی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے ماسوائے ظلم و بربریت، قتل و غارت، تباہی و بربادی کے علاوہ اسے کچھ نہیں ملتا۔ جزیرہ عرب کے لاکھوں انسانوں کے خون، جلتے ہوئے گھروں اور خیموں کی آگ سے تعمیر ہونے والی اس مملکت سے حرمين شريفين کی حفاظت اور امت مسلمہ کے حقوق کی پاسداری ممکن ہی نہیں۔ جب بیت اللہ الحرام، مسجد نبوی کی حرمت اور جنت البقیع، جنت المعلٰی، کربلا معلٰی كا وجود انکے شر سے محفوظ نہیں رہ سکے تو پھر ان سے کسی مقدس چیز کی حفاظت کی توقع کیا کی جا سکتی ہے۔ ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں، منصفانہ جائزه ليتے ہیں اور انڈیا کے ساتھ آل سعود کے تعلقات کی تاریخ قديم اور حاضر سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

انڈیا سعودی تعلقات کا جائزہ تین مراحل کی شکل میں لیا جا سکتا ہے۔

پہلا مرحلہ 1932ء سے 1965ء تک تقریباً 43 سال

دوسرا مرحلہ 1965ء سے 2000ءتک تقریباً 35 سال

تیسرا مرحلہ 2000ء سے 2017ء تک تقریباً 17 سال

پہلا مرحلہ 1932ء سے 1965ء تک:
* 1932ء جب سعودی ملک عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن بن فیصل آل سعود نے حجاز مقدس یا جزیرہ عرب پر قبضہ کیا اور اسکا مقدس نام تبدیل کرکے اپنے خاندانی نام سے منسوب کرتے ہوئے سعودی عرب رکھا تو جواہر لعل نہرو نے انکے اس کارنامے کی بہت تعریف کی، انکی شجاعت (لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام) اور سیاسی بصیرت کو سراہا. یہیں سے آل سعود اور ہندو لیڈروں کے تعلقات کا سلسلہ شروع ہوا، نقطہ اتحاد یہ بھی تھا کہ آل سعود نے طاقت کے بل بوتے پر جزیرہ عرب کو متحد کیا اور کانگریس بھی ہندوستان سے جداگانہ ملک پاکستان کا مطالبہ طاقت سے دبانا چاہتی تھی۔ 1955ء کو اس وقت کے سعودی ولی عہد ملک فیصل بن عبدالعزیز آل سعود نے انڈیا کا دورہ کیا، جو کہ ملک کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ بھی تھے، انہوں نے مضبوط دو طرفہ تعلقات اور تعاون کے اصول طے کئے۔

* ان کے نیو دہلی دورے کے چند دن بعد ہی خود سعودی فرمانروا ملک سعود بن عبدالعزیز نے 17 دن کا انڈیا کا دورہ کیا، اس دورے میں وہ انڈیا کے نیو دہلی کے علاوه بمبئ، حیدرآباد، میسور، شملہ، آگرہ و علی گڑھ وغیرہ مختلف شہروں میں گئے اور دونوں ممالک کے تعلقات بہت مضبوط ہوئے۔

* 1956ء میں انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے سعودیہ کا دورہ کیا اور انکا والہانہ استقبال ہوا، اسے جدہ اسٹیڈیم میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرنے کا شرف دیا گیا، یہ پروٹوکول اور شرف کسی بھی غیر ملکی مہمان کو نہیں دیا جاتا تھا۔

* اس کے بعد امریکہ اور روس کے مابین کولڈ وار کا دور تھا اور دنیا دو بلاکوں کے اندر تقسیم ہوئی، انڈیا روس کے بلاک میں چلا گیا اور سعودیہ امریکی بلاک کا حصہ تھا، اس لئے انکے تعلقات بھی کولڈ ہوگئے۔

دوسرا مرحلہ 1965ء سے 2000ء تک:

امریکی بلاک میں ہونے کے ناطے سعودیہ کی پاکستان سے قربتیں بڑھیں، بھٹو چونکہ روس کی طرف میلان رکھتا تھا، اس لئے بھٹو کی اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص دیوبندی اور نام نہاد خلافت اسلامیہ کے ایجنڈے پر کام کرنے والی جماعتوں سے قربتیں بڑھیں۔ جب فوجی انقلاب کے ذریعے جنرل ضیاء الحق برسر اقتدار آیا اور سعودیہ کی نظریاتی طور پر ہم فکر جماعتوں کو بھی سیاسی عروج ملا تو پاکستان کے مستقبل کے لئے موسم خزاں اور وہابیت و تکفیریت کی بہار کا دور شروع ہوا۔ دوسري طرف پاکستان سے قربت اور خطے میں آنے والی تبدیلیوں کے باوجود انڈیا کے ساتھ سعودی تعلقات بدستور قائم رہے۔

* 1981ء میں دونوں ملکوں کے مابین اقتصادی اور ٹیکنالوجی تعاون کو بڑھانے کے لئے مشترکہ فورم بنا۔

* 1982ء کو انڈین وزیراعظم اندرا گاندھی نے سعودیہ کا رسمی دورہ کیا اور مندرجہ ذیل شعبوں میں انکے مابین تعاون جاری رہا۔

1۔ پاور اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون جاری رہا۔

2۔ بڑی تعداد میں انڈین لیبرز کو سعودیہ میں کام کرنے کے مواقع ملے، اس وقت اگر دو ملین کے قریب پاکستانی سعودیہ میں مزدوری کر رہے ہیں تو انڈین مزدوروں کی تعداد تقریباً تین ملین ہے، لیکن آل سعودی انکے ساتھ پاکستانیوں سے اچھا سلوک بھی کرتے ہیں، انڈین حکومت کو دھمکیاں بھی نہیں دیتے کہ ہم آپکے مزدور نکال دیں گے، نہ ہی سعودی حکومت یہ احسان جتلاتی رہتی ہے اور نہ ہی انکے نمک خوار انڈیا میں ایسے ہیں، جو یہ احسان جتلاتے رہیں۔

3- 1990ء میں کولڈ وار کے خاتمے کے بعد اور دوسری خلیجی جنگ، جب عراق نے کویت پر حملہ کیا، اس کے بعد سعودی اور خلیجی ممالک میں خطرات کا احساس بڑھا، اس لئے انہوں نے اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے انڈیا سے تعلقات بڑھائے اور چند سالوں میں انڈیا سب سے زیادہ سعودیہ سے خام تیل کا خریدار بنا۔

تیسرا مرحلہ 2000ء سے 2017ء تک:
سعودی انڈین تعلقات کا عروج:

یہ دور سعودی انڈین تعلقات کی بہار کا دور ہے۔ ان دونوں ممالک کے مابین اس وقت بہت قربتیں ہیں، لیکن اس مرحلے پر روشنی ڈالنا اور پاکستانی عوام کو انڈین سعودی گٹھ جوڑ سے آگاہ رکھنا نہ ہماری حکومت کی ترجیح میں شامل ہے اور نہ ہی ہمارا میڈیا اس پر شور مچاتا ہے۔ ہمیں انڈین ایرانی تعلقات تو نظر آتے ہیں، لیکن انڈین سعودی تعلقات نظر نہیں آتے۔ ہم یہاں ان پر روشنی ڈالتے ہیں۔

انڈیا اور سعودیہ کے مابین سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور دفاعی معاہدے ہیں

انڈیا اپنی ضرورت کا 30% پٹرول سعودیہ سے خریدتا ہے، جو کہ پانچ لاکھ بیرل روزانہ بنتا ہے۔ سعودی رپورٹس کے مطابق انڈیا انکا چین، امریکہ اور امارات کے بعد دنیا میں چوتھا بڑا بزنس پارٹنر ہے، وہ روزانہ پانچ لاکھ بیرل پٹرول سعودی عرب سے امپورٹ کرتا ہے۔ 2000ء سے 2006ء تک 68 انڈیا کی کمپنیاں سعودیہ میں کام کرتی تھیں۔ 2006ء سے 2009ء تک انکی تعداد 250 تک پہنچ گئی اور اب انکی تعداد 400 سے تجاوز کرچکی ہے۔ پاکستان کے ساتھ سعودی تجارت فقط 4.5 بلین ڈالرز سالانہ ہے۔ 2016ء تک انڈیا اور سعودیہ کے مابین تجارت 150 بلین ڈالرز سالانہ تھی۔ بڑی تعداد میں انڈین لیبرز کو سعودیہ میں کام کرنے کے مواقع ملے۔ اس وقت اگر دو ملین کے قریب پاکستانی سعودیہ میں مزدوری کر رہے ہیں تو انڈین مزدوروں کی تعداد تقریباً تین ملین ہے، لیکن آل سعود انکے ساتھ پاکستانیوں سے اچھا سلوک بھی کرتے ہیں، انڈین حکومت کو دھمکیاں بھی نہیں دیتے کہ ہم آپکے مزدور نکال دیں گے، نہ ہی سعودی حکومت یہ احسان جتلاتی رہتی ہے اور نہ ہی انکے نمک خوار انڈیا میں ایسے ہیں، جو یہ احسان جتلاتے رہیں۔

سعودی سركاری وفود کے انڈیا کے دورے:

2005ء کو سعودی وزارت پٹرولیم اور انڈین وزارت پٹرولیم کے مابین مشترکہ تعاون کی کمیٹی تشکیل پائی۔

2006ء سعودی فرمانروا ملک عبداللہ بن عبدالعزیز کے دورے سے از سر نو سعودی عرب اور ہندوستان کے تعلقات بہت مضبوط ہوئے، یہ دورہ بھارت کے یوم آزادی کی مناسبت کے ایام میں ہوا اور ملک عبداللہ نے اپنے خطاب میں انڈیا کو اپنا دوسرا وطن قرار دیا۔ اس کے بعد دو طرفہ تعلقات اور وفود کے تبادلے کا وہ دور شروع ہوا، جو تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، حتٰی کہ سعودی وزیر خارجہ جبیر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم پاکستان کی خاطر ہرگز انڈیا کو نہیں چھوڑ سکتے۔ سعودی نمک خوار اور محب وطن ہونے کے دعویدار اسکا ذکر کبھی نہیں کریں گے۔

سعودی وفود کیجانب سے انڈیا کے سرکاری دورہ جات:

سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے 2006ء میں انڈیا کا دورہ کیا۔

فروری 2008ء اور دسمبر 2008ء میں سعود الفیصل نے انڈیا کے دو دورے کئے۔

2006ء اور 2008ء کے درمیان دیگر مختلف سعودی وزراء جن میں وزیر عدل، وزیر صنعت و تجارت، وزیر پٹرولیم و معدنیات، وزیر صحت و وزیر تعلیم نے بھی کئی ایک دورے کئے اور اپنی اپنی وزارتوں کے متعلق امور پر دو طرفہ تعاون کے معاہدوں پر انکے اور انڈین وزراء کے مابین دستخط ہوئے۔

15، 16 جنوری 2009ء کو سعودی انٹیلی جینس کے سربراہ امیر مقرن بن عبدالعزیز نے بھی انڈیا کا دورہ کیا۔

اپریل 2010ء میں ملک سلمان بن عبدالعزیز نے اعلٰی سطحی وفد کی سربراہی کرتے ہوئے انڈیا کا دورہ کیا۔

اگست 2009ء اور نومبر 2010ء کو سعودی وزیر صنعت و تجارت نے انڈیا کا دورہ کیا۔

28 مارچ 2011ء کو سعودی فرمانروا کے خصوصی نمائندے کے طور پر امیر بندر بن سلطان نے انڈیا کا دورہ کیا اور انڈین وزیراعظم منموہن سنگھ سے خصوصی ملاقات کی۔

3 سے 5 فروری 2011ء کو سعودی وزیر اقتصاد و منصوبہ بندی نے انڈیا کا دورہ کیا اور اقتصادی تعاون کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔

فروری 2012ء کو امیر عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز وزیر پٹرولیم و معدنیات نے انڈیا کا دورہ کیا۔

مارچ 2012ء کو پہلی بار امام مسجد الحرام شیخ عبدالرحمن سدیس نے انڈیا کا پانچ روزہ دورہ کیا۔

4 سے 6 جنوری 2012ء کو سعودی وزیر صنعت و تجارت نے 76 رکنی وفد کے ساتھ انڈیا کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کی مشترکہ صنعتی و تجارتی کونسل کے نویں اجلاس میں شرکت کی۔

30 اپریل 2012ء کو امام مسجد الحرام شیخ خالد غامدی نے انڈیا کا دورہ کیا۔

سعودی مجلس شوریٰ کے سربراہ شیخ عبداللہ بن محمد آل شیخ نے انڈیا کا دورہ کیا اور انڈیا سیاستدانوں اور پارلیمنٹرین سے ملاقات کی۔

2015ء کو سعودی وزیر خارجہ عادل جبیر نے انڈیا کا دورہ کیا اور بیان دیا کہ ہم پاکستان کی خاطر انڈیا کو نہیں چھوڑ سکتے۔

2015ء میں انڈیا کی فضائیہ کی مشقوں کو دیکھنے سعودی وزیر دفاع آئے۔

انڈین سرکاری وفود کیجانب سے سعودیہ کے دورہ جات:

اپریل 2008ء کو انڈین وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے سعودیہ کا دورہ کیا۔

اپریل 2009ء کو وزیر مملکت برائے امور خارجہ ای احمد نے سعودیہ کا دورہ کیا۔

31 اکتوبر 2009ء کو انڈیا کے وزیر مالیات پرناب مکھرجی نے دس رکنی وفد کی سربراہی کرتے ہوئے سعودیہ کا دورہ کیا اور مشترکہ مالیاتی امور کی کونسل کے اجلاسوں میں شرکت کی۔

27 فروری 2010ء کو انڈیا کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے سعودی عرب کا کامیاب دورہ کیا۔

22 فروری 2011ء کو انڈیا کے وزیر گیس و پٹرولیم نے سعودیہ کا دورہ کیا، مشترکہ تعاون کی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی۔

26 مارچ 2011ء کو انڈین وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے سعودیہ کا دورہ کیا۔

4 اپریل 2016ء کو نریندرمودی انڈیا کے وزیراعظم نے سعودیہ کا دورہ کیا اور اس کا بے نظیر استقبال ہوا۔ پاور، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعت و تجارت کے میدان میں معاہدے اور 400 انڈین کمپنیوں کو سعودیہ کی طرف سے پرمٹ دینے پر اتفاق ہوا۔

انڈیا اور سعودیہ کے مابین سکیورٹی اور دفاعی تعلقات:

2009ء میں دونوں ملکوں کے مابین سکیورٹی اور دفاعی معاہدے ہوئے، جن کی بنیاد پر جماعۃ الدعوۃ اور لشکر طیبہ پر سختیاں شروع ہوئیں۔ سعودیہ نے بمبئی حملوں میں مطلوب لشکر طیبہ کے افراد کو اپنے ملک سے بھی نکال دیا اور بعض کو انڈیا کے حوالے کیا۔

فروری 2014ء کو دو ہندوستانی جنگی بحری بیڑے سعودیہ کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں میں شریک ہوئے۔

مارچ 2015ء کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ انڈین نیشنل ڈیفنس کالج اور سعودی اعلٰی دفاعی کالج کے مابین دونوں ممالک کے  وفود کے تبادلے ہوئے۔

2015ء کو انڈین جنگی بحری بیڑے جدہ آئے، انڈین فضائيہ کے جنگی جہاز اور اسلحہ منتقل کرنے والے جہاز بھی سعودیہ لینڈ ہوئے، ان پر ایک بڑی تعداد میں انڈیا کے فوجی بھی سعودیہ پہنچے اور اسی سال سعودی فوجی آفیسرز انڈیا کے نیشنل ڈیفنس کالج ٹریننگ کے لئے آئے۔

انڈین بحریہ کے دو جنگی بیڑے ای این ایس دہلی اور ای این ایس ٹریشل 10 ستمبر 2015ء کو سعودی بندرگاہ الجبیل پر لنگر انداز ہوئے۔ انڈیا کا ای این ایس ٹریشل جنگی بحری بیڑا 163 میٹر لمبا ہے اور جدید ترین جنگی ہتھیاروں سے لیس ہے، زمین سے زمین پر متوسط رینج کے میزائل اور اینٹی ائر کرافٹ نصب ہیں۔

About VOM URDU

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful