پاکستان میں شیعہ سنی تصادم کا خطرناک منصوبہ بے نقاب

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں مذہبی فسادات، غیر ملکیوں کی ٹارگٹ کلنگ و اغواء، فوج اور حساس اداروں کے اعلیٰ افسروں کیخلاف پروپیگنڈا مہم چلانے کیلئے 3 غیر ملکی قوتیں متحرک ہو گئی ہیں، پاکستان کے اندر کالعدم تنظیموں اور افغان نوجوانوں کو بطور آلہ کار استعمال کرنے کیلئے بھاری فنڈنگ کر دی گئی ہے، ایران اور سعودی عرب دونوں کیخلاف احتجاجی مظاہرے کروا کر شیعہ سنی فساد پھیلانے کیلئے بھی را اور دیگر قوتیں منصوبہ بنا چکی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان کے حساس اداروں نے را، سی آئی اے، موساد اور این ڈی ایس کی پاکستان کیخلاف سازش کو ناکام بنانے کیلئے کام شروع کر دیا گیا ہے۔

حساس اداروں کی رپورٹ کے  مطابق بھارت نے پاکستان کے اندر ہر صورت میں فساد برپا کرنے، سی پیک اور دیگر منصوبوں کو روکنے کیلئے چار اطراف سے پاکستان پر یلغار کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے، جس میں 3 غیر ملکی قوتیں کی اسے مکمل حمایت حاصل ہے۔ بھارت ایک جانب سرحدی علاقوں میں سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرکے پاک فوج کو مصروف کرے گا، دوسری جانب 8 بڑے شہروں کوئٹہ، کراچی، گوادر، پشاور، لاہور اور راولپنڈی میں غیر ملکیوں کی ٹارگٹ کلنگ اور اغوا، شیعہ سنی رہنماﺅں کی ٹارگٹ کلنگ یا ان پر حملے کرائے جائیں گے اور ان کو مذہبی رنگ دے کر پروپیگنڈا کیا جائے گا۔ ایسے واقعات کے فوری بعد پاکستان کے اندر ان کے حمایتی این جی اوز، 5 سیاسی جماعتوں کے افراد جن کو بالواسطہ یا بلاواسطہ بھارتی لابی کی سپورٹ حاصل ہوتی ہے، ان کے ذریعے جلسے جلوس اور احتجاج کرایا جائے گا۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق دبئی، نیپال اور بنگلہ دیش سے مختلف پاکستانیوں کے نام سے سوشل میڈیا کے جعلی اکاﺅنٹس بنا کر ان پر نفرت انگیز اور شرانگیز مواد کو چلایا جائے گا اور پاکستان کے ایک بڑے بڑے سوشل میڈیا چلانے والے گروپ کے ذریعے بھی پاکستان افواج اور 3 اہم ذمہ داران کیخلاف بھی مہم چلانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیلئے 2 ہزار جعلی اکاﺅنٹ بنائے گئے ہیں، بلوچستان اور سندھ کے اندر ٹارگٹ کلنگ اور اغواء کی وارداتوں میں 3 بڑی سیاسی جماعتوں کے ونگز جن کا افغانستان اور بھارت سے تعلق ہے، کی مدد لی جا رہی ہے۔ حساس اداروں کے ذرائع کے مطابق سازش میں ملوث ایسے تمام افراد کیخلاف کارروائی کیساتھ ساتھ ان سیاسی جماعتوں جو بھارت کیساتھ رابطوں میں ہے ان کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

About VOM URDU

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.