فتح آخر سچ اور حق کی ہوئی

وہ تمام لوگ جنہوں نے اس مطالبے کی خاطر غداری اور بغاوت کا الزام اپنے سر لیا لیکن اپنے مطالبے اور نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔لیکن گلگت بلتستان کے مقامی نام نہاد حکمران اور مولوی حضرات بضد رہے کہ پانچواں صوبہ ہی ہمارا مطالبہ ہے اور وفاق سے آئی ہوئی پارٹیوں نے بھی اس نعرے میں جدت پیدا کیا یعنی ان افراد نے جھوٹ پر مبنی ایک کہانی کے پیچھے قوم کا وقت برباد کیا۔ایک نسل ختم ہوگئی لیکن گلگت بلتستان کے پاپٹ حکمران اپنے مراعات کی خاطر اس نعرے پر زور دیتے رہے کہ ہماری منزل آئینی صوبہ ہے۔ اور اسلام آباد کے بابو بھی اس حوالے سے تمام تر مسائل سے بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود اس بات کی تائید کرتے رہے کہ پانچواں صوبہ گلگت بلتستان کے عوام کا حق ہے۔ گلگت بلتستان کے کئی حق پرست رہنما ریاست گلگت بلتستان کی بحالی کے مطالبے کی وجہ سے جلا وطنی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہوئے۔جنہوں نے میدان میں رہ کر ریاست کی بحالی کا نعرہ لگایا ان میں کسی نے احتجاج کے طور خود کو آگ لگایا، کسی کو دوائی میں زہر ملا کر دیا گیا کوئی عمر بھر قید ہوئے کچھ افراد پر فرقہ واریت کا الزام لگایا،مقامی اخبارات نے اس حوالے سے لکھے گئے کالمز کو ردی ٹوکری میں ڈال کر حب الوطنی کا عظیم مظاہرہ پیش کیا۔ یعنی ہمارے خطے میں ہر کوئی مالک کی اشارے پر بندر کی طرح ناچتے رہے لیکن مرض کی تشخیص کرنے اس حوالے سے سمجھانے والوں کو سننا بھی گوارہ نہ کیا۔حال ہی کی مثال لیں تو سی پیک میں ہمارے ساتھ ہونے والے تاریخی فراڈ اور قومی تشخص کی بحالی اور مسائل کی حل کیلئے جب چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کیا تو رہنماوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ لیکن ہر ظلم کی ایک انتہا ہوتی ہے اور فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔انقلاب کے راستے میں ذیادہ لوگوں کی نہیں بلکہ پختہ سوچ کے ساتھ میدان میں ڈٹ جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان کے حکمرانوں نے ریاست کی بحالی کا مطالبہ کرنے والوں پر وہ ظلم کیا جو کہ تاریخ کا سیاہ باب ثابت ہوا اور حکومت پاکستان بھی یہ بات ماننے پر مجبور ہوئے مسلہ کشمیر کی ممکنہ حل تک کیلئے یکم نومبر 1947 کی پوزیشن پر بحالی ہی ایک قانونی اور آئینی راستہ ہے۔حق پرست لیڈران، یوتھ، جلاوطن اور قیدی رہنماوں سمیت ہم سب کیلئے فخر کی بات ہے کہ ہم نے حق کیلئے جدوجہد کیا اور آج وفاق پاکستان نے بھی اس بات کو قبول کیا کہ گلگت بلتستان کے حق پرست غدار نہیں بلکہ وہی لوگ ہی دراصل محب وطن اور پاکستان کے وفادار ہیں جو پاکستان کو آئینی اور قانونی راستہ دکھاتے رہے۔ اب اخلاقی طور پرگلگت بلتستان کے نام نہاد حکمرانوں کی حق حکمرانی ختم ہوچکی ہے کیونکہ یہ لوگ نہ صرف پاکستان کے مجرم ٹہرے بلکہ ان افراد کو جواب دینا ہوگا کہ آپ نے اپنے مفاد کیلئے کیوں کئی دہائیوں تک بیس لاکھ عوام سے جھوٹ بولتے رہے۔ شکریہ
شیر علی انجم

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful