عالمی ذرائع ابلاغ گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ دکھانے پر مجبور

بھارت نے عالمی ٹی وی چیلنز اور ویب سائٹس کو اپنے نقشوں میں گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ دکھانے پر مجبور کر دیا۔ بھارت پچھلے پانچ سال سے اس پر سرگرم ہے، لیکن پاکستان میں اس مسئلے پر انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا۔ پاکستانی حکام ابھی تک بھارت کی اس خطرناک مہم کا توڑ کرنے میں ناکام ہیں۔

بھارتی کی سیاسی جماعتیں کانگریس ہو یا بی جے پی ہمیشہ ہندوتوا کو پھیلانے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے سرگرم رہتی ہیں۔ بھارت نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ دکھانے کیلئے نہ صرف ہر فورم پر زور لگا دیا ہے بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ کو کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اکانومسٹ نے کشمیر کو پاکستان، بھاررت کے درمیان متنازع علاقہ دکھایا تو بھارت بھڑک اٹھا اور میگزین کو وضاحت دینے پر مجبور کر دیا۔ الجزیرہ ٹی وی نے وہی نقشہ دکھایا تو نشریات پانچ دن کیلئے بند کر دیں۔ گوگل بھی بھارت کے دباؤ میں آ گیا اور اپنے نقشے میں کشمیر، گلگت بلتستان، کے ٹو اور نانگا پربت کو بھارت کا حصہ بنا دیا۔ اس طرح فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی کشمیر کے بغیر بھارتی نقشے کی اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر کے جان چھوٹی۔ 2015ء میں کوئنز لیںڈ یونیورسٹی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورے پر آزاد کشمیر کا نقشہ دکھایا تو بھارت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا۔

اسی طرح واٹس ایپ اور اوبر کی بھی خوب خبر لی گئی۔ یہاں تک کہ پاکستان کے عظیم دوست کو نجانے کیا ہوا، چین کے سرکاری ٹی وی نے بھی کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ دکھا دیا۔ یہی نہیں، بھارت نے عالمی اداروں کو مجبور کرنے کیلئے ایک اور قدم اٹھایا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا ملے گی۔ اس کیلئے قانون کی ضرورت پڑی تو وہ بھی بنا دیا۔ اب جو بھی کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ نہیں دکھائے گا، سزا پائے گا۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جو عالمی ویب سائٹس اور چینلز پاکستان میں دیکھے جاتے ہیں۔ ان میں بھی کشمیر اور گلگت بلتستان بھارت کا حصہ نظر آئیں گے۔ غضب یہ ہے کہ بھارتی اپنا کام کرتے رہے اورد وری جانب پاکستانی حکام لاپرواہی کی حدوں کو چھوتے رہے۔ وزارت خارجہ ایک نوٹس سے آگے نہ بڑھ سکی تو وزارت اطلاعات نے بھی چپ سادھے رکھی۔ پاکستان نے اس منصوبے کا نہ تو کوئی توڑ کیا اور نہ ہی عالمی اداروں کو باور کروایا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، اسے عالمی نقشوں میں کسی صورت بھی بھارت کا حصہ نہیں دکھایا جا سکتا۔ بھارتی ہٹ دھرمی اور دیدہ دلیری حکومت پاکستان کی مسلسل لاپرواہی اور خاموشی 69 سالہ مسئلہ کشمیر کو کس دبیز چادر میں چھپائے گی اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔

About VOM

Voice of Muslim is committed to provide news of all sort in muslim world.

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

Read Next

ăn dặm kiểu NhậtResponsive WordPress Themenhà cấp 4 nông thônthời trang trẻ emgiày cao gótshop giày nữdownload wordpress pluginsmẫu biệt thự đẹpepichouseáo sơ mi nữhouse beautiful