گلگت بلتستان میں سیاحت کو کیوں نظر انداز کیا جارہا ہے ؟

گلگت بلتستان میں ان دنوں غیرملکی اور ملکی سیاحوں کی غیر معمولی تعداد بغرضِ سیاحت آئی ہوئی ہے اور آئے روز اس تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کے آنے کا یہ سلسلہ ستمبر تک جاری رہے گاویسے تو سیاحوں کے آنے کا سلسلہ نومبر میں بھی جاری رہتا ہے۔پچھلے سال کی نسبت اس سال سیاحوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی سطح پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اب تک گلگت بلتستان میں پانچ لاکھ سیا ح آئے ہیں ۔ محکمہ سیاحت کے ذرائع کے مطابق عید الفطر کے بعد سے گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں اور گلگت بلتستان میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی باقاعدہ اندارج کا سلسلہ شروع کردیاہے جس کے مطابق عید سے اب تک گلگت بلتستان میں ایک لاکھ بیس ہزار سیاح آ چُکے ہیں۔روزانہ کی بنیاد پر ناران کاغان کے راستے بابوسر پاس کو عبور کرکے550 سے زائد گاڑیاں جبکہ شاہراہ قراقرم کے راستے روزانہ 150 سے زائد گاڑیاں گلگت بلتستان میں داخل ہو رہی ہیں۔پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے سکردو اور گلگت آنے والے سیاح ان کے علاوہ ہیں۔پچھلے دوسالوں میں گلگت بلتستان میں سیاحوں کے غیر معمولی رش کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تمام اضلاع کے ہوٹلز ، گیسٹ ہاوسز اور سرکاری ریسٹ ہاوسز مہمانوں سے مکمل بھرے رہےبلکہ گلگت اور سکردو میں بڑی تعداد میں سیاحوںکی جانب سے راتیں اپنی گاڑیوں میں یا مساجد و امام بارگاہوں میں گزارنے کی اطلاعات تھیں ۔ ان حالات کے پیشِ نظر بعض علاقوں میں سکول کی عمارتیں بھی خالی کرائی گئیں تھیں۔اس تجربے کی روشنی میں حکومت نے اس سال قبل از وقت اس صورتِ حال سے نمٹنے کی تیار کی۔ گلگت اور سکردو اضلاع میں خیمہ بستیاں قائم کیں ۔سکردو میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے  ایک خیمہ بستی لگائی گئی تھی جبکہ گلگت میں تین ٹینٹ ویلج بنائے گئے۔ ایک ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دوسرا ناردرن ایریاز ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے جبکہ ایک محکمہ سیاحت کی جانب سے لگایا گیا ۔اس سال بھی کچھ تعلیمی اداروں کو بھی خالی رکھا تھا مگر سکولوں میں مہمان ٹھہرانے کی نوبت نہیں آئی۔
گلگت بلتستان میں سیاحوں کی تعداد میں جو اچانک اضافہ ہوا ہے جس کی ایک اہم وجہ گلگت بلتستان میں امن وا مان کی بہتر صورتِ حال ہے ۔ ساتھ ہی موسم سرما میں پچھلے کئی سالوں سے گلگت بلتستان کی گھریلو صنعتوں اور ثقافتی حوالے سے ملک کے مختلف حصوں میں نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں گلگت بلتستان کی تہذیب و ثقافت کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے۔گزشتہ سال دسمبر میں لاہور ایکسپو سینٹر میں چار روزہ ثقافتی نمائش ہوئی۔دسمبر ہی میں اسلام آباد میں ایک بڑے میڈیا گروپ کے اشتراک سے ایک شاندار پروگرام کا انعقاد ہوا۔اپریل میں بھی اسلام آباد میں چار روزہ نمائش کا اہتمام ہوا ۔ فیصل آباد میں بھی چیمبر آف کامرس کے اشتراک سے اور اسی طرح اپریل میں لوگ ورثہ اسلام آباد کے زیر اہتمام ثقافتی میلہ لگایا گیا جس میں خاص طور پر مقامی اور گھریلو دستکاری اور میوزیکل شوکا اہتمام تھا۔ ان تمام تقریبات میں گلگت بلتستان کی بھی بھرپور نمائندگی موجود تھی۔ یوں گلگت بلتستان کی تہذیب و ثقافت سے لوگوں کو آگہی ملی ۔ان مواقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کو گلگت بلتستان میں موجود سیاحتی مواقع سے متعلق معلومات پر مشتمل بروشرز اور سی ڈیز تقسیم کی گئیں ۔یہ سلسلہ گلگت بلتستان سے متعلق لوگوں میں آگئی پیدا کرنے اور گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں اور مہم جووں کو گلگت بلتستان کی طرف مائل کرنے کے لئے ہر سال نومبر کے مہینے میں برطانیہ میں ہونے والا ’ ولڈ ٹریولڈ مارکیٹ WTM کے نام سے ہونے والا دنیا بھر کے سیاحت سے متعلقہ افراد کا یہ اجتماع بہت زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے ۔اس اجتماع میں گلگت بلتستان کی بھی نمائندگی ہوتی ہے۔اسی طرح برلن میں ہر سال مارچ کے مہینے میں ’ انٹرنیشنل ٹریول ٹریڈ برلن ‘ (ITTB) کے نام سے منعقد ہوتا ہے۔جس میں دنیا کے ایک سو اسی ممالک سے مندوبین آتے ہیں اور اپنی مصنوعات اور ثقافتی اشیا پر مشتمل دس ہزار کے لگ بھگ سٹال لگائے جاتے ہیں۔اسی طرح چین اور سپین میں بھی سالانہ بنیادوں پر اسی نوعیت کے اجتماعات کا اہتمام ہوتا ہے۔جن میں گلگت بلتستان کی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے۔اور سیاحت کی مارکیٹینگ کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔
ان سارے اقدامات سے گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ مل رہا ہے اور گلگت بلتستان میں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہاہے۔ اگرچہ معمولی اور زیادہ کوشش کر کے گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ ابھی تک محکمہ سیاحت ملکی سطح پر صرف اور صرف پنجاب اور وفاقی دارلحکومت کی مارکیٹ کو استعمال میں لارہے ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ گنجائش صوبہ سندھ بالخصوص کراچی اور خیبر پختونخواہ کی مارکیٹ میں موجود ہے۔ لیکن کبھی  ان مارکیٹوں پر توجہ نہیں دی گئی ہے ۔بلوچستان کے صوبے میں بھی کبھی بھی گلگت بلتستان سے متعلق کو ئی پروگرام متعارف نہیں کرایا گیا ۔ان مارکیٹوں کو بھی استعمال میں لایا جائے تو گلگت بلتستان میں سیاحت کا شعبہ ملکی سیاحوں ہی کی بدولت بہت زیادہ ترقی کر کے صنعت کا درجہ اختیا ر کرسکتا ہے ۔ان صوبوں میں گلگت بلتستان حکومت اور محکمہ سیاحت کے حکام کی جانب سے توجہ مبذول نہ کرنے کی شاید یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ گلگت بلتستان میں مزید سیاحوں کے آمد کایہاں کا سیاحتی ڈھانچہ  اجازت نہیں دیتا ۔ یہاں اس وقت جتنے سیاح آ رہے ہیں ان کے لئے خطے میں مناسب ہوٹلز ، گیسٹ ہاوسز اور ریسٹ ہاوسزمیسر نہیں ۔اس وقت سالانہ پانچ لاکھ کے لگ بھگ جو سیاح آ رہے ہیں گلگت بلتستان میں ان کی رہائشی سہولتوں کے لئے مسائل آرہے ہیں اورخیمہ بستی لگانے اور سکولوں کو سیاحوں کی رہائش کے لئے خالی کرانے کی نوبت آرہی ہے۔ مذید سیاح آنے کی صورت میں شاید سکولوں اور خیمہ بستیوں میں بھی جگہ نہ مل سکے۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت ہوٹل انڈسٹری اور ٹرنسپورٹ کمپنیوں کے قیام میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہش مند افراد کے لئے کم سے کم مارک آپ کے ساتھ قرضوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مذید سہولتیں دے تاکہ یہ شعبے ترقی کر سکیں ۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ کے اضلاع کرگل اور لیہ میں دستیاب انسا نی سہولتوں اور دیگر بڑے شہروں سے روڈ نیٹ ورک کے زریعے منسلک ہونے کے ناطے دیکھا جائے تو گلگت بلتستان ان  سے بہت پیچھے ہے ۔حتیٰ کہ لداخ کا سردیوں کے سیزن میں بھارت اور باہر کی دنیا سے زمینی رابطے کا کوئی ذریعہ دستیاب نہیں رہتا ۔برف باری کے بعد راستے بند ہوجاتے ہیں اور فضائی سروس کا انحصاربھی موسم کے اُوپر ہوتا ہے۔لیکن وہاں سالانہ بیس سے پچیس لاکھ سیاح بغرض سیاحت آتے ہیں ۔ وہاں اُنھوں نے اپنی منفرد تہذیب و ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اس کی بنیاد پر دنیابھر کے سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ہم نے ابھی تک کلچرل ٹورزم پر توجہ ہی نہیں دی ہے۔ہمارے ہاں جتنے بھی غیر ملکی سیاح آتے ہیں وہ ایڈونچرسٹ ہوتے ہیں ۔موجودہ دور معلومات اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ایسے میں ہمیں ایڈونچرسٹ کے ساتھ ساتھ کلچرل ٹورسٹس کی توجہ بھی حاصل کرنا ہے ۔ اس مقصد کے لئے جہاں گلگت بلتستان سے متعلق معلومات کو دنیا میں عام کرنا ہے وہاں گلگت بلتستان میں روڈ نیٹ ورک ، ٹرانسپورٹ سر وس اور ہوٹل انڈسٹری کو ترقی دینا ہے۔گلگت بلتستان کو قدرت نے جہاں چاروں خوبصورت موسم عطا کئے ہیں وہاں ایسے سینکڑوں مقامات موجود ہیں جہاں بیک وقت دریا ، صحرا ، پہاڑ ، سبزہ ، بادل اور برف ایک ساتھ موجود ہوں ۔ایسے مناظر دنیا میں کم ملکوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ آج ہم گلگت بلتستان میں انفراسٹریکچر کی ترقی پر توجہ دینگے تو کل کو سکردو کرگل روڈ کُھلے گا تو لداخ میں آنے والے کلچرل ٹورسٹ اسی راستے گلگت بلتستان آسکتے ہیں ۔سکردو کرگل روٹ کو کھولنے کے لئے گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ ستر سالوں سے جدو جہد میں مصروفِ عمل ہیں۔دوسری جانب سکردو میں ملک کے بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک ہوائی اڈہ موجود ہے اور سیاحت اور تجارت کی نکتہ نگاہ سے سکردو سے چین کے صوبہ سیکیانگ اور نیپال کے شہر کھٹمنڈو کے لئے فضائی سروس شروع کرنے پر غور کیا جا ر ہا ہے ۔ سی پیک منصوبے پر کام ہونے کے بعد بھی گلگت بلتستان میں سیاحوں کی تعداد میں اچھا خاصا اضافہ ہوگا جس کے لئے ابھی سے توجہ دینا ضروری ہے ۔اس ضمن میں سب سے زیادہ ذمہ داری گلگت بلتستان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس وقت تو صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے۔شاہراہ قراقرم اور گلگت سکردو روڈ کی حالت انتہائی خستہ ہے ۔ ان سڑکوں پر سے مسافر گاڑیوں کا گزر نامشکل ہوتا ہے بالخصوص گلگت سکردو روڈ کو اس کی خستہ حالی کے باعث اِسے موت کا کنواں قراار دیا جارہا ہے ۔ایک سو پچاس کلو میٹر پرمشتمل اس روڈ پر چار گھنٹے کی مسافت سات گھنٹے میں طے ہوتی ہے۔ اور آئے روز سڑک بند ہوتی رہتی ہے جس سے سیاح راستے سے ہی واپس جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔حکومت اور سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او )کی جانب سے باربار کے اعلانات اور دعوں کے باوجود اس روڈ کے بیشتر حصّوں پر اب بھی ٹیلی کمیونیکیشن کی سہولت موجود نہیں۔جس کے باعث اس مشکل ترین سفر میں سیاحوں کا کہیں رابطہ نہیں ہوسکتا۔ایس سی او نے تو ماضی میں سکردو میں موجود دنیا کے بلند ترین سطحِ مرتفع دیوسائی میں سیاحوں کی سہولت کے لئے وہاں ایس کام موبائل کی سروس فراہم کردی تھی مگر اب جبکہ سیاحوں کا رش اس مقام پر بڑھ رہا ہے تو وہاں ایس کام موبائل کی سروس بھی غائب ہوگئی ہے ۔حتی کہ سکردو شہر کی حدود میں ہی سد پارہ روڈ پر بھی ایس کام کے سگنلز رومینگ پر دستاب ہیں ۔ ایس سی او کی موبائل اور انٹر نیٹ سروس دن بہ دن رو بہ زوال ہے اب تو حد یہ کہ سکردو کے ہوائی اڈئے پر بھی ایس سی اوکی موبائل سروس دستیاب نہیں ۔ اب وہاں ایس کام کی سروس رومینگ پر دستیاب ہے اور رومینگ پر موجود سروس پر مسجینگ کی سہولت تک میسر نہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو ملک سے ملانے والی سڑک کی حالت تو ناگفتہ بہ ہے۔یہ وہ سڑک ہے جو ملک کو آٹھ ہزار میٹر سے بلند چار چوٹیوں کے ٹو 8611میٹر ، مشہ بروم G 1 6068 میٹر ، براڈ پیک 8047 میٹر اور گشہ برومG 2 8035 میٹر بلند سمیت اہم ترین سینکڑوں چوٹیاں یہاں موجود ہیں ان سے ملاتی ہے۔ ان چوٹیوں تک پہنچنے کے لئے سکردو اسکولی روڈ استعمال کی جاتی ہے ۔لیکن اپو علی گونڈ سے اسکولی تک کی سڑک حقیقی معنوں میں موت کا کنوں ہے۔ اس ایریے میں ایک تو سڑک انتہائی تنگ ہے یہاں سے ایک گاڑی بمشکل گزر سکتی ہے اور اوپر سے پتھر بھی گرتے رہتے ہیں ۔ جہاں حادثات کا خطرہ ہمیشہ کوہ پیماوں کے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔ کئی بار یہاں اوپر سے آنے والے پتھروں کے لگنے سے غیر ملکی کوہ پیماہ ہلاک ہوئے ہیں جو عالمی سطح پر ملکی بدنامی کا باعث ہے۔ اس سڑک کی بہتری کے لئے عوامی سطح پر بھی عرصے سے تواتر کے ساتھ مطالبات ہونے کے باوجود اس اہم ترین سڑک کی بہتری کے لئے کوئی کام نہیں کیا گیا ۔جو کہ انتہائی باعث تشویش بات اور متعلقہ اداروں کی غفلت اور لاپرواہی کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔جس سے عالمی سطح پر ملک کی بدنامی ہو رہی ہے ساتھ ہی سیاحت کا شعبہ بھی متاثر ہورہا ہے ۔سکردو میں  سیاحت کا محکمہ عدم فعال ہے۔ یہاں سے ملک بھر یا غیرملکی سیاحوں کی تو بات ہی نہیں خود سکر دو میں موجود میڈیا پرسنز کو بھی ضروری معلومات تک دستیاب نہیں۔

تحریر: قاسم نسیم

18 جولائی, 2017

About VOM

وائس آف مسلم ویب سائٹ کو ۵ لوگ چلاتے ہیں۔ اس سائٹ سے خبریں آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہماری تمام خبریں، آرٹیکلز نیک نیتی کے ساتھ شائع کیئے جاتے ہیں۔ اگر پھر بھی قارئین کی دل آزاری ہو تو منتظمین معزرت خواہ ہیں۔۔